شوال میں ایک ہفتے میں دوسرا ڈرون حملہ، تین ہلاک

شمالی وزیرستان کا علاقہ پاکستان میں حالیہ امریکی ڈرون حملوں کا مرکز رہا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنشمالی وزیرستان کا علاقہ پاکستان میں حالیہ امریکی ڈرون حملوں کا مرکز رہا ہے
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے سرحدی علاقے میں امریکی جاسوس طیارے کے میزائل حملے میں کم از کم تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق یہ حملہ پیر کی صبح پانچ بجے تحصیل شوال کے علاقے دبر میں کیا گیا۔

انتظامیہ کے اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جاسوس طیارے نے ایک مکان کو دو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔

اس حملے میں مکان تباہ ہوگیا اور اس میں موجود کم از کم تین افراد ہلاک ہوگئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق ہلاک شدگان کی تعداد چار ہے۔

میزائل حملے میں ہلاک ہونے والوں کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی ہے۔

یہ سنہ 2015 کے آغاز کے بعد پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ہونے والا تیسرا ڈرون حملہ ہے۔

اس سے قبل15 جنوری کو تحصیل شوال کے ہی سرحدی علاقے میں ایک میزائل حملے میں چھ مبینہ شدت پسند ہلاک ہوئے تھے۔

شمالی وزیرستان میں گذشتہ سال وسط جون سے فوجی آپریشن ضرب عضب شروع کیا گیا تھا اور اس کے سلسلے میں وہاں پاکستان فوج کی کارروائیاں جاری ہیں۔

گذشتہ برس کے دوران شمالی وزیرستان کا علاقہ ہی پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کا مرکز رہا ہے اور وہاں 2014 میں 19 حملے کیے گئے۔

امریکہ ڈرون حملوں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں موثر ہتھیار قرار دیتا ہے جبکہ پاکستان ان حملوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے اور ان پر باقاعدہ احتجاج کرتا رہا ہے۔