وزیرستان میں سال کا دوسرا ڈرون حملہ، چھ ہلاک

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی اور جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے میں امریکی جاسوس طیارے کے میزائل حملے میں چھ مبینہ شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔
یہ حملہ بدھ اور جمعرات کی صبح ایک بجے پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے قریب واقع تحصیل شوال کے سرحدی علاقے میں کیا گیا۔
مقامی انتظامیہ کے اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جاسوس طیارے نے ایک مکان کو نشانہ بنایا اور اس پر دو میزائل داغے۔
اس حملے میں چھ افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں اور اب تک ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔
یہ 2015 کے آغاز کے بعد پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ہونے والا دوسرا ڈرون حملہ ہے۔
اس سے قبل چار جنوری کو شمالی وزیرستان کی ہی تحصیل دتہ خیل میں الوڑہ منڈی کے قریب کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے ایک دھڑے کے مرکز پر حملے میں سات شدت پسند مارے گئے تھے۔
شمالی وزیرستان میں گذشتہ سال وسط جون سے فوجی آپریشن ضرب عضب شروع کیا گیا تھا اور اس کے سلسلے میں وہاں پاکستان فوج کی کارروائیاں جاری ہیں۔
گذشتہ برس کے دوران شمالی وزیرستان کا علاقہ ہی پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کا مرکز رہا ہے اور وہاں 2014 میں 19 حملے کیے گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکہ ڈرون حملوں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں موثر ہتھیار قرار دیتا ہے جبکہ پاکستان ان حملوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے اور ان پر باقاعدہ احتجاج کرتا رہا ہے۔







