شوال میں دو ڈرون حملے، تین غیرملکیوں سمیت آٹھ ہلاک

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں رواں برس اب تک 19 ڈرون حملے ہو چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستان کے قبائلی علاقوں میں رواں برس اب تک 19 ڈرون حملے ہو چکے ہیں
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امریکی جاسوس طیاروں کے میزائل حملوں میں آٹھ مبینہ شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق یہ حملے جمعے کی صبح پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے قریب واقع تحصیل شوال میں ہوئے۔

مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈرون طیارے نے کنڈ اور منگوتری کے علاقوں میں میزائلوں سے دو مکانات کو نشانہ بنایا۔

کنڈ میں ہونے والے حملے میں پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ پنجابی طالبان تھے۔

اہلکار کے مطابق منگوتری میں جس مکان کو میزائل سے نشانہ بنایا گیا اس سے تین افراد کی لاشیں ملی ہیں جو کہ ازبک بتائے جاتے ہیں۔

خیال رہے کہ شوال کے علاقے میں غیر ملکی شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات ملتی رہتی ہیں۔

یہ رواں ہفتے میں دوسرا موقع ہے کہ شمالی وزیرستان کو ڈرون طیاروں نے نشانہ بنایا ہے۔

اس سے قبل طالبان کی جانب سے پشاور میں سکول پر حملے کے بعد 20 دسمبر کو دتہ خیل کے علاقے لواڑہ منڈی میں ڈرون حملہ ہوا تھا جس میں پانچ افراد مارے گئے تھے۔

خیال رہے کہ رواں سال جنوبی اور شمالی وزیرستان میں امریکی جاسوس طیاروں کی طرف سے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں اور گاڑیوں پر 21 حملے کیے جا چکے ہیں جن میں درجنوں شدت پسند مارے گئے ہیں۔

ان 21 حملوں سے صرف دو حملے جنوبی وزیرستان، جبکہ 19 شمالی وزیرستان میں کیے گئے ہیں۔

امریکہ ڈرون حملوں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں موثر ہتھیار قرار دیتا ہے جبکہ پاکستان ان پر احتجاج کرتا رہا ہے۔

پاکستان نے شمالی وزیرستان میں ضربِ عضب کے نام سے چھ ماہ سے فوجی آپریشن بھی شروع کر رکھا ہے۔

حال ہی میں پشاور میں طالبان کے حملے میں 144 افراد کی ہلاکت کے بعد ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے 20 نکات پر مشتمل ایک قومی لائحہ عمل کی منظوری بھی دی ہے۔