’کیا شدت پسند پھر منظم ہورہے ہیں’

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان میں وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں گذشتہ سال شروع ہونے والے فوجی آپریشن ضرب عضب اور پشاور میں آرمی پبلک سکول حملے کے تناظر میں وجود آنے والی ایک جامع حکمت عملی پر عمل درآمد سے ملک بھر میں شدت پسندی کے واقعات میں کافی حد تک کمی آئی ہے۔

تاہم حالیہ دنوں میں قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافے سے ایسے خدشات جنم لے رہے ہیں کہ شدت پسند پھر سے منظم ہونے کی کوشش کر رہے ہیں؟

شمالی وزیرستان میں گذشتہ سال جون میں شروع کیا گیا آپریشن ضرب عضب اس لحاظ سے کامیاب رہا کہ اس کے نتیجے میں شمالی وزیرستان کو عالمی جہادیوں اور دہشت گردوں سے صاف کر دیا گیا ہے اور ایجنسی کے نوے فیصد علاقے کو شدت پسندوں سے آزاد کرکے وہاں پر حکومت کی عمل داری دوبارہ بحال کردی گئی ہے۔

شمالی وزیرستان پاکستان کا وہ واحد علاقہ تھا جہاں دنیا بھر کے شدت پسند قابض تھے اور جہاں سے حکومت کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں ہونے والے بڑے بڑے حملوں کی منصوبہ بندی ہوتی رہی ہے۔ تاہم آپریشن ضرب عضب سے شدت پسندوں کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو بری طرح نقصان پہنچا ہے جس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ دو تین مہینوں تک شدت پسندوں کا ذرائع ابلاغ سے رابطہ بالکل منقطع رہا ۔

تاہم گذشتہ سال دسمبر میں آرمی پبلک سکول پشاور پر حملے نے ملک کے سارے منظر نامے کو تبدیل کرکے رکھ دیا اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت خیبر سے لے کر کراچی تک کاروائیوں کا دائرہ بڑھا دیاگیا۔

ابتدا میں یہ کاروائیاں اتنی تیز اور موثر انداز میں کی گئی کہ چند ماہ کے دوران ہی لوگوں کا اعتماد بحال ہوگیا اور ایسا لگ رہا تھا کہ شاید شدت پسندوں کو پھر سے اٹھنے کا موقع نہیں ملے گا۔ ان کاروائیوں کے نتیجے میں ملک بھر میں دہشت گردی کے بڑے بڑے واقعات میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔

لیکن حالیہ دنوں میں خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں پھر سے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس سے بظاہر ایک ایسا تاثر مل رہا ہے کہ جیسے شاید عسکریت پسند پھر سے منظم ہونے کی کوششوں میں ہیں۔

گزشتہ چند ہفتوں سے خیبر پختونخوا کے اضلاع مردان اور پشاور میں پولیس اہلکاروں پر حملے بڑھے ہیں جس میں کم سے کم اٹھ اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ قبائلی علاقوں میں بھی ہدف بناکر قتل کے واقعات میں تیزی آ رہی ہے۔ تاہم یہاں ان حملوں کا نشانہ سکیورٹی اہلکاروں سے زیادہ طالبان مخالف امن کمیٹیوں کے رہنما یا حکومتی حامی قبائلی مشیران رہے ہیں۔

افغان سرحد سے ملحق قبائلی علاقوں باجوڑ اور مہمند ایجنسیوں میں گزشتہ چند دنوں کے دوران سات ایسے حملے ہوچکے ہیں جس میں بیشتر واقعات میں قبائلی سرداروں اور سیاسی رہنماؤں کو قتل کیا جاچکا ہے۔ ایک کارروائی میں سیاسی رہنما کے بیٹے کو دن دھاڑے ایک اہم علاقے سے اغوا کیا گیا ۔ اس کے علاوہ خیبر ایجنسی کے تحصیل جمرود میں پولیٹکل انتظامیہ کے دفاتر پر خودکش حملہ کیا گیا جس میں پانچ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

ان حملوں کی ذمہ داری وقتاً فوقتاً کالعدم تنظیموں کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہے۔ ان میں ایک حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی جانب سے بھی قبول کی گئی ۔ ان واقعات سے مذکورہ علاقوں میں ایک خوف کی فضا پھر سے پیدا ہو رہی ہے خاص کر باجوڑ میں جہاں قبائلی لشکروں کے رہنما پہلے بھی نشانہ بنتے رہے ہیں۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے آغاز کے بعد عسکری تنظیموں کے ذرائع ابلاغ سے رابطوں میں کافی حد تک کمی آئی تھی لیکن حالیہ دنوں میں ان حملوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ شدت پسندوں کی میڈیا سے رابطوں میں بھی تیزی آئی ہے۔ یہ رابطے اتنے تیز ہوگئے ہیں کہ بعض واقعات کی ذمہ داری بیک وقت دو دو تنظیموں کی جانب سے قبول کی گئی۔

ان رابطوں میں تیزی سے بظاہرعسکری تنظیمں پھر سے ایسے عندیہ دے رہی ہیں کہ جیسے وہ پھر سے منظم ہونے کی کوششوں میں ہیں۔ تاہم قبائلی علاقوں میں کوئی ایسا علاقہ نہیں جہاں شدت پسند مستقل طورپر قابض ہوں۔