’122 سکول اے پی ایس ہلاک شدگان کے نام‘

گذشتہ برس 16 دسمبر کو ہونے والے حملے میں 140 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سے اکثریت طلبا کی تھی

،تصویر کا ذریعہAFP Getty

،تصویر کا کیپشنگذشتہ برس 16 دسمبر کو ہونے والے حملے میں 140 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سے اکثریت طلبا کی تھی

پاکستان کی وفاقی حکومت نے دارالحکومت اسلام آباد کے 122 سکولوں اور کالجوں کو آرمی پبلک سکول پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والوں کے ناموں سے منسوب کرنے کی منظوری دی ہے۔

خیال رہے کہ پشاور کے آرمی پبلک سکول پر گذشتہ برس 16 دسمبر کو ہونے والے حملے میں 140 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سے اکثریت طلبہ کی تھی۔ صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے اس سانحے کی برسی سرکاری سطح پر منانے کا اعلان کیا ہے۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے پیر کو وفاق کے 122 سکولوں اور کالجوں کو اے پی ایس حملے میں ہلاک ہونے والوں سے منسوب کرنے کی باضابطہ طور پر منظوری دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس اقدام کا مقصد جہالت اور نفرت کے خلاف شہدا کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔‘

سکول کا ایک منظر

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنسکول کا ایک منظر

میاں نواز شریف نے کہنا ہے کہ عدم برداشت کرنے والے چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے آگے نہ بڑھیں۔

ان کا کہنا ہے کہ تحمل، روشن خیالی اور تعلیم کو فروغ دے کر دہشت گردوں کا مقابلہ کیا جائے گا۔

وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ہمارے دشمن نفرت اور انتہاپسندی چاہتے ہیں اور ہم انھیں ایسا نہیں کرنے دیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’شہدا کی یادیں وطن عزیز کی بقا سے جڑی ہیں۔‘

ادھر پاکستان کے ایوانِ بالا میں اے پی ایس حملے میں ہلاک ہونے والوں کے اہلِ خانہ سے اظہارِ یک جہتی اور دہشت گردی کے خلاف کوششیں جاری رکھنے کے لیے حکومتی قرارداد منظور کر لی گئی ہے۔

اپوزیشن لیڈر اعتزاز احسن نے سینٹ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے 16 دسمبر کو پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن قرار دیا۔