پشاور حملہ: کچھ یادیں، کچھ خواب

16 دسمبر جو پشاور کے آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے میں جن 141 بچوں اور عملے کے ارکان کو ہلاک کر دیا گیا، ان میں سکول کی پرنسپل بھی شامل تھیں جنھیں لوگ مسلسل خراج تحسین پیش کر رہے ہیں۔ درج ذیل میں سکول کے عملے اور ہلاک ہونے والے چند بچوں کو ان کے دوست اور عزیز یاد کرتے ہیں۔

طالبان کے اس حملے میں ہلاک ہونے والے کئی بچوں اور ان کے اساتذہ اور سکول کے عملے کے ارکان کے بارے میں تمام معلومات ہمیں دستیاب نہیں ہیں، تاہم ان میں کچھ درج ذیل تھے۔

عثمان صدیق عباسی، طالب علم

عثمان صدیق عباسی کے دوست کے بقول ان کی میت ان کے آبائی شہر ایبٹ آباد پہنچا دی گئی تھی۔

صوفیہ امجد، ٹیچر

آرمی پبلک سکول کی لیکچرر صوفیہ امجد کے شوہر وکیل ہیں۔ پاکستان کے ایک نجی چینل کے مطابق صوفیہ اور ان کے شوہر اپنی بیٹی کی شادی کی تیاریاں کر رہے تھے۔

حسنین شریف، طالب علم، جماعت ہشتم

حسنین کے دو کزن بھی ان کے ساتھ سکول میں ہی تھے اور وہ سکول کی دیوار پھلانگنے میں کامیاب رہے اور یوں حملے میں محفوظ رہے۔

شہناز نعیم، سربراہ کمپیوٹر سائنس

شہناز نعیم کے ایک سابق سٹوڈنٹ ڈاکٹر زبیر خٹک کہتے ہیں کہ ’انھیں اس وقت گولی مار دی گئی جب تمام بچوں کو سکول سے نکالنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ وہ آخری سانس تک حملہ آوروں کے سامنے کھڑی رہیں۔‘