سانحہ پشاور: مجرمان کی رحم کی اپیلیں مسترد کرنے کی سفارش

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے وزیر اعظم نے صدر مملکت کو گذشتہ برس دسمبر میں پشاور میں آرمی پبلک سکول پر ہونے والے حملے کے مقدمے میں فوجی عدالتوں کی طرف سے چار مجرموں کو ملنے والی سزائے موت کے خلاف رحم کی اپیلیں مسترد کرنے کی سفارش کی ہے۔
وزیر اعظم محمد نواز شریف نے صدر مملکت ممنون حسین کو یہ سفارش آئین کے آرٹیکل 105 کے تحت کی ہے۔
وزیر اعظم ہاؤس کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ برس آرمی پبلک سکول پر حملہ کرنے والے اور بچوں کو بہیمانہ طریقے سے ہلاک کرنے والے مجرمان کسی طور پر بھی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے کے بعد پوری قوم شدت پسندی کے خلاف متحد ہو گئی تھی جبکہ اس واقعے کے بعد پارلیمنٹ نے ایسے شدت پسندوں کو اُن کے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے آرمی ایکٹ میں ترمیم کر کے ان عدالتوں کو بااختیار بنایا گیا ہے کہ وہ مختصر عرصے میں ایسے مجرموں کے مقدمات کی سماعت مکمل کر کے اُنھیں کیفر کردار تک پہنچائیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پوری قوم کی شدید خواہش ہے کہ ایسے مجرمان کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
واضح رہے کہ فوجی عدالتوں نے آرمی پبلک سکول پر حملہ کرنے کے الزام میں چھ افراد کو موت کی سزا سنائی تھی۔ ابھی تک یہ حقیقت سامنے نہیں آ سکی کہ سزائے موت پانے والے افراد کے کے مقدمات کی پیروی کون کر رہا ہے اور یہ بھی ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا کہ ان مجرمان نے فوجی عدالتوں کے طرف سے ملنے والی سزا کے خلاف ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں کوئی درخواست دائر کی ہے یا نہیں۔
پشاور ہائی کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے فوجی عدالتوں سے موت کی سزا پانے والے دو افراد کی سزا پر عمل درآمد روک دیا تھا تاہم یہ مجرمان فوجی تنصیبات اور سکیورٹی فورسز پر حملہ کرنے کے مقدمات میں ملوث ہیں۔



