پشاور آرمی سکول پر حملے کے چھ مجرموں کو سزائے موت

16 دسمبر کو پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے میں طالب علموں سمیت 140 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے

،تصویر کا ذریعہbbc

،تصویر کا کیپشن16 دسمبر کو پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے میں طالب علموں سمیت 140 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے
    • مصنف, آصف فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان میں کام کرنے والی فوجی عدالتوں نے آرمی پبلک سکول پشاور پر حملے میں ملوث چھ مجرموں کو سزائے موت اور ایک کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

اس کے علاوہ کراچی میں رینجرز پر ہونے والے حملے میں ملوث ایک مجرم کو بھی موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

فوجی عدالتوں نے ان آٹھ سویلین افراد کو یہ سزائیں پارلیمنٹ سے حال ہی میں منظور ہونے والے اس قانون کے تحت دی ہیں جس کے تحت فوجی عدالتوں کو عام شہریوں کے خلاف بھی مقدمات چلانے کا اختیار دیا گیا ہے۔

فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں مجرموں کے کوائف اور ان کے جرم کی تفصیل بیان کی گئی ہےتاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ عدالتیں کہاں قائم کی گئی تھیں۔

برّی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے فوجی عدالت کے اس فیصلے کی توثیق کر دی ہے تاہم فوجی قانون کے تحت مجرم اس سزا کے خلاف فوجی عدالت میں اپیل کر سکیں گے۔

فوج کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات میں ان میں سے بیشتر مجرموں کا تعلق ایک غیر معروف شدت پسند تنظیم توحید والجہاد گروپ کے ساتھ بتایا گیا ہے۔

یہ تنظیم پاکستان میں اس سے پہلے کسی کارروائی میں شامل نہیں رہی۔

یاد رہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں نے 16 دسمبر کو پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملہ کر کے طالب علموں سمیت 140 سے زائد افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

آرمی پبلک سکول پشاور پر حملے میں ملوث چھ مجرموں کو سزائے موت سنائی گئی ہے
،تصویر کا کیپشنآرمی پبلک سکول پشاور پر حملے میں ملوث چھ مجرموں کو سزائے موت سنائی گئی ہے

آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد فوجی عدالتوں کے دائرہ اختیار وسیع کرتے ہوئے انھیں عام شہریوں کے خلاف بھی مقدمے چلانے کا اختیار دیا گیا تھا تاہم یہ عدالتیں صرف انہی افراد کے خلاف کارروائی کرنے کی مجاز ہیں جن کی سفارش پاکستان کی وزارت داخلہ نے کی ہو۔

آرمی پبلک سکول پر حملے کے الزام میں ان مجرموں کو سزائے موت دی گئی ہے:

حضرت علی ولد اول باز:

ان کے بارے میں فوجی حکام کا کہنا ہے کہ یہ توحید الجہاد گروپ کے رکن تھے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں اور ان کے اغوا اور قتل میں ملوث تھے۔ حضرت علی نے آرمی پبلک سکول پر حملے میں مالی مدد بھی فراہم کی۔

مجیب الرحمٰن عرف نجیب اللہ ولد گلاب جان:

ان پر توحید الجہاد کا رکن ہونے اور پشاور میں فوجی ہوائی اڈے پر حملے کے لیے دس خودکش حملہ آوروں کو منتقل کرنے کا الزام ہے۔ ان پر آرمی پبلک سکول پر حملہ کرنے والوں کی مدد کا بھی الزام ہے۔

سبیل عرف یحییٰ ولدعطا اللہ:

اس مجرم پر بھی توحید الجہاد گروپ کا رکن ہونے کا الزام ہے۔ اس کے علاوہ ان پر بھی پشاور میں فوجی ہوائی اڈے پر حملے کے لیے دس خودکش حملہ آوروں کو منتقل کرنے اور آرمی پبلک سکول پر حملہ کرنے والوں کی مدد کا بھی الزام ہے۔

مولوی عبدالسلام ولد شمسی:

مجرم پر بھی توحید الجہاد گروپ کا رکن ہونے اور آرمی پبلک سکول پر حملہ کرنے والوں کی مدد کا الزام ہے۔ اس کے علاوہ یہ مجرم فوج کے دو افسران اور نیشنل ڈیویلپمنٹ کمپلیکس کے سویلین ڈائریکٹر کے قتل میں بھی ملوث ہونے کا الزام تھا۔

تاج محمد عرف رضوان ولد الطاف خان:

یہ مجرم کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کا رکن تھا اور ان پر آرمی پبلک سکول پر حملہ کرنے والے خودکش حملہ آوروں کو پناہ دینے کا الزام تھا۔ اس کے علاوہ ان پر نیشنل ڈیویلپمینٹ کمپلیکس کے سویلین ڈائریکٹر کے قتل کا بھی الزام تھا۔

ایک مجرم کو کراچی کے علاقے صفورا چوک میں ریجنرز پر بم حملہ کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنایک مجرم کو کراچی کے علاقے صفورا چوک میں ریجنرز پر بم حملہ کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی ہے

عتیق الرحمٰن عرف عثمان ولد علی رحمٰن:

ان پر بھی توحید الجہاد گروپ کا رکن ہونے اور آرمی پبلک سکول پر حملہ کرنے والوں کی مدد کا الزام ہے۔ اس کے علاوہ ان پر سی آئی ڈی پولیس سٹیشن پر حملے اور فوج کے دو افسران اور نیشنل ڈیویلپمینٹ کمپلیکس کے سویلین ڈائریکٹر کے قتل میں ملوث ہونے کا بھی الزام تھا۔

آرمی پبلک سکول پر حملے کے الزام میں کفایت اللہ عرف کیف قاری ولد غلام حیدر نامی مجرم کو عمر قید کی سزا دی گئی ہے۔ اس مجرم پر بھی توحید الجہاد گروپ کا رکن ہونے اور آرمی پبلک سکول پر حملہ کرنے والوں کی مدد کا الزام ہے۔ اس کے علاوہ ان پر دو افراد پر بم حملے کا بھی الزام ہے۔

ان مجرموں کے علاوہ فوجی عدالت نے فرحان عرف علی عرف عباس عرف اعجاز قادری نامی مجرم کو کراچی کے علاقے صفورا چوک میں ریجنرز پر بم حملہ کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی ہے۔ اس حملے میں تین اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہو گئے تھے۔