قومی ایکشن پلان کی پیش رفت اور کمزوریاں

نیشنل ایکشن پلان آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد ترتتب دیا گیا تھا
،تصویر کا کیپشننیشنل ایکشن پلان آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد ترتتب دیا گیا تھا
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان میں گذشتہ سال دسمبر میں پشاور کے آرمی پبلک سکول پر ہونے والےحملے نے پاکستان کو جھنجوڑ کر رکھ دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ملک کی سیاسی و فوجی قیادت نے جنوری میں ایک جامع بیس نکاتی قومی ایکشن پلان ترتیب دیا۔ ماہرین کے مطابق اس پلان پر گذشتہ چھ ماہ کے دوران بعض شعبوں میں تو کافی پیش رفت ہوئی لیکن اکثر سست روی کا شکار ہیں۔ حکومت کا البتہ دعویٰ ہے کہ اس منصوبے پر ستر فیصد کام ہوا ہے یا ہو رہا ہے۔

پیش رفت

گرفتاریاں و مقدمات: پاکستان کے حکام کے مطابق قومی ایکشن پلان کے تحت اب تک ستر ہزار مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا جن میں سے تقریبًا بیس ہزار کے خلاف ابتدائی تفتیش کے بعد مقدمات درج ہوئے ہیں۔

تشدد میں کمی: ملک میں عمومی طور پر شدت پسندوں کی کارروائیوں میں کمی آئی ہے جس کا اعتراف امریکی حکومت نے بھی کیا ہے۔

موبائل فون سمیں: سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں اب تک نو کروڑ سے زیادہ موبائل فون سموں کی دوبارہ تصدیق ہوچکی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ملک میں 13 کروڑ سے زیادہ موبائل صارفین ہیں۔

پھانسیاں: پشاور سکول حملے کے بعد سزائے موت پر سے پابندی اٹھا لی گئی اور رمضان سے قبل 176 کے قریب مجرموں کو تختہ دار پر لٹکایا گیا ان میں سے محض دس فیصد دہشت گردی کے واقعات کے مجرم تھے۔

نیکٹا فعال: قومی ایکشن پلان کے تحت انسداد دہشت گردی کے ادارے نیکٹا کو فعال کیا گیا ہے۔ اس کے لیے بجٹ میں 16 کروڑ روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔ اس ادارے کے تحت 1717 کال سینٹر بھی قائم کیا گیا تاکہ عام شہری دہشت گردی سے متعلق معلومات دے سکیں۔

فوجی عدالتیں: آئین میں ترمیم کے ذریعے تیزی سے دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ملزموں کو سزائیں دلوانے کے لیے فوجی عدالتیں قائم کی گئیں۔ چند کو سزائیں بھی ہوئیں لیکن معاملہ سپریم کورٹ میں اٹک گیا ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ آنے والا وقت کیا حکومت کے سیاسی عزم کو برقرار رکھ پائے گا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشندیکھنا یہ ہے کہ آنے والا وقت کیا حکومت کے سیاسی عزم کو برقرار رکھ پائے گا

کمزوریاں

ایکشن پلان کی سست روی پر شدید تنقید بھی ہو رہی ہے۔ سب سے زیادہ تلخ بیان سپریم کورٹ کے جسٹس جواد ایس خواجہ کا تھا جنھوں نے اسے ’مذاق‘ قرار دیا۔

اہم ناکامیاں کیا رہیں؟

فوجی عدالتیں: فوجی عدالتوں کے ذریعے دہشت گردوں کو جلد سزائیں دینے کا معاملہ عدالت عظمٰی میں پھنس گیا ہے۔

پابندیاں: ملک میں 60 کالعدم تنظیموں کی ایک فہرست گردش میں ہے لیکن ان کی تازہ ترین تعداد کیا ہے اور وہ کون سی ہیں اس حوالے سے ابہام موجود ہے۔ بعض کالعدم تنظیمیں آج بھی متحرک ہیں۔

فرقہ ورانہ تشدد: ملک میں عمومی تشدد میں تو کمی آئی ہے لیکن فرقہ ورانہ دہشت گردی میں کمی نہیں آئی ہے۔ ہزارہ قوم اور امام بارگاہوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

مدارس کا اندراج: غیر رجسٹرڈ مدارس کا اندراج بھی ایک اہم نکتہ ہے لیکن فی الحال ردعمل کے خوف سے اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے۔

ملک میں عمومی تشدد میں تو کمی آئی ہے لیکن فرقہ ورانہ دہشت گردی میں کمی نہیں آئی ہے۔ ہزارہ قوم اور امام بارگاہوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے
،تصویر کا کیپشنملک میں عمومی تشدد میں تو کمی آئی ہے لیکن فرقہ ورانہ دہشت گردی میں کمی نہیں آئی ہے۔ ہزارہ قوم اور امام بارگاہوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے

سائبر کرائمز: حکومت نے جلد بازی میں سائبر کرائمز کے ایک بل کو منظور کروانے کی کوشش کی لیکن سول سوسائٹی کے دباؤ کی وجہ سے اسے واپس لے لیا ہے۔ اب نیا حتمی مسودہ کب سامنے آئے گا معلوم نہیں۔

نظام عدل: قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے بنائی گئی کمیٹیوں میں ایک کمیٹی وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کی سربراہی میں قانون سے متعلق بھی بنائی گئی لیکن کہا جاتا ہے کہ اس کا ایک اجلاس بھی اب تک نہیں ہوا ہے۔

سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے بی بی سی سے گفتگو میں کمزوریوں کی ایک فہرست بتائی۔ ان کا کہنا تھا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ موجود ہے لیکن اس پر کچھ نہیں ہوا۔ پاکستان پینل کوڈ میں تبدیلیاں لانی تھیں اس کے علاوہ دیگر وزارتوں کے ساتھ مل کر وزرات داخلہ نے جو کام کرنے تھے وہ بھی نہیں ہوئے۔

مسلم لیگ نون کی حکومت اس تاثر کو مسترد کرتی ہے کہ قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد میں کسی قسم کی کوئی سست روی ہے۔ پارلیمانی سیکرٹری برائے وزارت داخلہ اور حکمراں جماعت کی رکنِ قومی اسمبلی مریم اورنگزیب نے بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ گذشتہ بیس برسوں میں جو کام نہیں ہوا اس پر گذشتہ چھ ماہ میں کافی پیش رفت ہوئی ہے۔

’جو کام وفاقی حکومت کے ذمہ تھا اس میں بہت پیش رفت ہوئی ہے لیکن اس منصوبے کا 70 فیصد صوبوں نے مکمل کرنا ہے۔ صرف وفاقی حکومت پر الزام عائد کرنا درست نہیں۔ مرکزی حکومت کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومتوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ قومی ایکشن پلان پر تیزی سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔‘

ان سے دریافت کیا گیا کہ منصوبے پر اب تک ہوئے عمل درآمد پر سو میں سے کتنے نمبر دیں گی؟ تو انہوں نے کہا کہ اب تک کی کارکردگی کو بنیاد بناتے ہوئے وہ ستر نمبر دے سکتی ہیں۔

قبائلی علاقوں میں ضرب عضب کی کامیابی کے بعد فوجی حکام کہہ رہے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ کو اب شہری علاقوں تک لے جانا ضروری ہے۔ اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظریں کراچی، اندرون سندھ اورجنوبی پنجاب پر ہیں۔

تو کیا اب یہ لڑائی شہروں میں لڑی جائے گی اور کتنی جان لیوا ہوسکتی ہے؟

بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) اسد منیر کہتے ہیں کہ شہری علاقوں میں یہ کارروائی کم خطرناک ہوگی۔ ’قبائلی علاقوں میں تو پہاڑوں اور دشوار گزار علاقوں کا فائدہ شدت پسند اٹھاتے ہیں، مورچے بنا لیتے ہیں شہری علاقوں میں ایسا ممکن نہیں۔ بس حکومت کو ان کی موجودگی کی اطلاع پر فوری کارروائی کرنا ہوگی۔ کہیں پر وہ مزاحمت کریں گے کہیں پر نہیں لیکن قبائلی علاقوں کی نسبت جانی نقصان کم ہوگا۔‘

قومی ایکشن پلان میں نواز حکومت پر یہ الزام بھی عائد ہوتا ہے کہ فوج کو زیادہ اہم رول دیا گیا ہے لیکن مریم اورنگزیب کہتی ہیں کہ فوج بھی اس ملک کا ایک اہم ادارہ ہے اور وزیر اعظم بطور چیف ایگزیکٹو ہی اہم فیصلے کرتے ہیں۔ ’ہمیں اس طرح سے اسے نہیں دیکھنا چاہیے کہ کوئی ادارہ دوسرے سے آگے ہے۔‘

حکومت یہ بھی کہتی ہے کہ اس منصوبے کے لیے وقت درکار ہے لیکن ناقدین کا ماننا ہے کہ یہی وقت بعض اوقات سیاسی عزم کو کمزور بھی کر دیتا ہے۔ تو اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ جنگ وقت جیتا ہے یا سیاسی عزم۔