’قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد اشد ضروری ہے‘

’تین مقدمات فوجی عدالتوں میں بھیجے گئے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن’تین مقدمات فوجی عدالتوں میں بھیجے گئے ہیں‘
    • مصنف, احمد رضا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے صوبہ سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد اشد ضروری ہے اور اس سلسلے میں حکومت سندھ کو جو ذمہ داریاں دی گئی تھیں انہیں اولین ترجیح دی جائے۔

حکومت سندھ کے مطابق صوبے میں 61 کالعدم مذہبی تنظیمیں سرگرم ہیں جبکہ اس سال اب تک لگ بھگ ساڑھے چار سو مشتبہ شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کے ترجمان کے مطابق یہ بات سیکریٹری داخلہ سندھ نے منگل کو صوبائی کابینہ کو بریفنگ میں بتائی۔

وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کی زیر صدارت والے اجلاس کو سیکریٹری داخلہ مختار سومرو نے بتایا کہ صوبے میں جنوری 2015 سے اب تک 447 دہشت گرد مارے گئے جبکہ سندھ پولیس نے 41 ہزار سے زیادہ مشتبہ دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کیا۔

انھوں نے بتایا کہ حکومت سندھ نے مذہبی منافرت کے حوالے سے زیرو ٹولرینس( مکمل طور پر عدم برداشت) پالیسی اپنائی ہوئی ہے اور اس ضمن میں لاؤڈ سپیکر ایکٹ کے تحت 753مقدمات درج ہوئے اور لگ بھگ سوا چارسو افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ نفرت انگیز مواد کی تشہیر اور ترسیل کے الزام میں 24 مقدمات درج ہوئے اور 28 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

ترجمان کے مطابق سیکریٹری داخلہ نے کابینہ کو بتایا کہ صوبے میں محکمہ انسداد دہشت گردی قائم کردیا گیا ہے۔

آئی جی پولیس سندھ غلام حیدر جمالی نے کابینہ کو بتایا کہ اس محکمے کے تحت بننے والی فورس میں فوج، رینجرز اور پولیس کے دو ہزار ریٹائرڈ اہلکار بھرتی کیے گئے ہیں جس نے اپنا کام شروع کر دیا ہے اور اب تک 199 مشتبہ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کے علاوہ 62 شدت پسندوں کو گرفتار کیا ہے۔

آئی جی پولیس نے بتایا کہ یہ محکمہ ٹریننگ کالج سعیدآباد میں قائم کیا گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد اشد ضروری ہے اور اس سلسلے میں حکومت سندھ کو جو ذمہ داریاں دی گئی تھیں انہیں اولین ترجیح دی جائے۔

سیکریٹری داخلہ سندھ مختیار سومرو نے بتایا کہ فوجی عدالتوں کو مقدمات بھیجنے کے سلسلے میں صوبائی لیگل کمیٹی نے 85 مقدمات کی جانچ پڑتال کی اور اس کے بعد 64 مقدمات فوجی عدالتوں میں بھیجنے کی سفارش کی تاہم وزارت داخلہ نے صرف 3 مقدمات کی منظوری دی جوکہ زیر تفتیش قیدیوں کے ساتھ فوجی عدالتوں کو منتقل کیے گئے ہیں۔

سندھ پولیس نے 41 ہزار سے زیادہ مشتبہ دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کیا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنسندھ پولیس نے 41 ہزار سے زیادہ مشتبہ دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کیا

سیکریٹری داخلہ نے یہ بھی بتایا کہ صوبے میں ساڑھے نو ہزار سے زیادہ مدارس میں سے ساڑھے پانچ ہزار رجسٹرڈ ہیں جبکہ تین ہزار سے زیادہ مدرسے ایسے ہیں جن کی اب تک رجسٹریشن نہیں ہوئی ہے اور وہاں لگ بھگ پانچ لاکھ 18 ہزار طلبہ زیرتعلیم ہیں جن میں غیر ملکی بھی شامل ہیں۔

سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ تفتیش کے نظام کو بہتر کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور بھاری رقوم مختص کرنے کے علاوہ لیاقت یونیورسٹی جامشورو اور ڈاؤ یونیورسٹی میں ڈی این اے لیب قائم کی گئی ہے۔

کابینہ کو یہ بھی بتایا گیا کہ کہ صوبہ سندھ میں میں 20 لاکھ سے زیادہ تارکین وطن آباد ہیں جن کی نصف تعداد افغان پناہ گزینوں پر مشتمل ہے۔

کراچی کے نواحی علاقے صفورا گوٹھ کے قریب شیعہ اسماعیلیوں کی بس پر حملے کے مشتبہ ملزمان کے بارے میں آئی جی پولیس سندھ غلام حیدر جمالی نے بتایا کہ گرفتار ملزمان نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے کراچی اور حیدرآباد میں دہشت گردی کی 37 کارروائیوں میں شامل ہونے کا اعتراف کیا ہے جن میں ان کے بقول قتل،بینک ڈکیتی، مساجد، رینجرز اور پولیس پر حملے جیسے جرائم شامل ہیں۔

سندھ پولیس کے سربراہ نے کہا کہ ’یہ دہشت گرد اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور انھیں بڑی مالی مدد بھی حاصل ہے اور اس گروپ میں 15 سے زائد دہشت گرد ہیں جو مختلف جرائم میں سرگرم رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ صوبے سے اغوا برائے تاوان کی وارداتیں ختم ہو چکی ہیں جبکہ شاہراہوں اور بینک ڈکیتی کی وارداتوں میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔