کراچی:ایس ایس پی پر حملے میں چار افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہ
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی میں ایس ایس پی راؤ انوار پر مبینہ حملے کی کوشش کے دوران چار مشتبہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ تمام پولیس اہلکار محفوظ رہے۔
ایس ایس پی راؤ انوار کا کہنا تھا کہ وہ اپنے گھر سے عدالت میں پیشی کے لیے جا رہے تھے کہ انھوں نے محسوس کیا کہ ایک کار اور موٹر سائیکل پر سوار افراد ان کا پیچھا کر رہے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ان کے پاس انٹیلی جنس رپورٹس تھیں کہ ان پر حملہ ہوسکتا ہے۔
ان کے مطابق جب انھوں نے کار اور موٹر سائیکل سواروں کو رکنے کا اشارہ کیا تو انھوں نے فائرنگ کر دی، محافظوں کی جوابی کارروائی میں چار افراد ہلاک ہوگئے۔
ہلاک ہونے والوں کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ تاہم راؤ انوار کا کہنا ہے کہ ان کے شناختی کارڈ برآمد ہوئے ہیں جن کی بنیاد پر ان کی شناخت کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ اس قبل بھی راؤ انوار پر حملے ہوچکے ہیں۔ ان کی معطلی کے بعد دو مئی کو سٹیل ٹاؤن کے قریب ان کے قافلے پر دستی بم حملہ کیا گیا تھا جس میں وہ محفوظ رہے جبکہ جوابی فائرنگ میں پانچ مبینہ حملہ آور ہلاک ہوگئے تھے۔
اس سے قبل سنہ 2012 میں کالا بورڈ کے قریب راؤ انوار پر خودکش بم حملہ کیا گیا تھا جس میں وہ محفوظ رہے تاہم حملہ آور سمیت چار راہ گیر ہلاک ہوگئے تھے۔
خیال رہے کہ ایس ایس پی راؤ انوار کو متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف اس پریس کانفرنس کے بعد معطل کر دیا گیا تھا جس میں انھوں نے ایم کیو ایم پر بھارتی ایجنسی را کے ساتھ گٹھ جوڑ کا الزام عائد کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے الزامات ایم کیو ایم کے تین کارکنوں کی گرفتاری کے بعد سامنے آئے تھے جن کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ وہ بھارت سے تربیت یافتہ ہیں۔
متحدہ قومی موومنٹ نے ان الزامات کو مسترد کیا تھا اور کہا تھا کہ ماضی میں بھی ان پر اس نوعیت کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔







