سانحہ پشاور: ایک اور طالب علم دم توڑ گیا، کُل ہلاکتیں 144

آرمی پبلک سکول کے حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے لیے انصاف لینے کے لیے قائم کیے جانے والے شہدا فورم نے وزیراعظم نواز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کے خلاف مقدمہ درج کرانےکا فیصلہ کیا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنآرمی پبلک سکول کے حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے لیے انصاف لینے کے لیے قائم کیے جانے والے شہدا فورم نے وزیراعظم نواز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کے خلاف مقدمہ درج کرانےکا فیصلہ کیا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر پشاور کے آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے میں زخمی ہونے والا طالب علم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال میں دم توڑ گیا ہے۔

حکام کے مطابق آرمی پبلک اسکول پر حملے کے نتیجے میں زخمی ہونے والا طالبعلم اسحاق امین ہفتے کو دم توڑ گیا۔

اسحاق امین کی ہلاکت کے بعد آرمی پبلک سکول پر حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 144 ہو گئی ہے۔

اسحاق امین 16 دسمبر کو سکول پر ہونے والے حملے میں شدید زخمی ہوگیا تھا۔

دوسری جانب آرمی پبلک سکول کے حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے لیے انصاف لینے کے لیے قائم کیے جانے والے شہدا فورم نے وزیراعظم نواز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کے خلاف مقدمہ درج کرانےکا فیصلہ کیا ہے۔

شہدا فورم کے ترجمان اجون خان نے بی بی سی اردو کے ذیشان علی کو بتایا وہ جلد ہی وکلا کے ساتھ اس حوالے سے مشاورت کے لیے بیٹھیں گے اور وکلا کے مشورے کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ 16 دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی پبلک سکول پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں زیادہ تر بچے ہلاک ہوئے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے حملے کے بعد پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ شدت پسند کسی کو یرغمال بنانے نہیں، مارنے کی ہی نیت سے آئے تھے۔

دوسری جانب آرمی پبلک سکول کے حملے میں زخمی ہونے والے طالب علم احمد نواز کی برطانیہ کے شہر برمنگھم میں سرجری ہونی ہے۔

ان کا یہ آپریشن پانچ گھنٹے کا ہو گا۔ ان کو حملے میں بازو پر شدید چوٹیں آئی تھیں۔