آرمی سکول کے متاثرین کی ذہنی بحالی کے لیے غیر ملکی دورے

 ان دوروں کا مقصد طلبا اور اساتذہ کے ذہنوں پر حملے کے منفی اثرات کو کم کرنا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشن ان دوروں کا مقصد طلبا اور اساتذہ کے ذہنوں پر حملے کے منفی اثرات کو کم کرنا ہے
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

شدت پسندوں کا نشانہ بننے والے آرمی پبلک سکول اینڈ کالج پشاور کے طالب علموں، والدین اور اساتذہ جو اس حملے میں محفوظ رہے تھے پیر کو ہانگ کانگ کے دس روزہ دورے پر روانہ ہو گئے ہیں۔

سکول کے دیگر بچوں کے مختلف ممالک کے دورے بھی ترتیب دیے گئے ہیں جبکہ ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین کو عمرے پر بھجوایا جائے گا۔

اس دورے کا مقصد طلبا اور اساتذہ کے ذہنوں پر حملے کے منفی اثرات کو کم کرنا ہے۔

سکول کی ایک سٹاف رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سکول کے دس بچے اور ان کے ساتھ والدین میں سے کوئی ایک اور سٹاف کے دو رکن گذشتہ روز اسلام آباد چلے گئے تھے جہاں سے پیر کو وہ ہانگ کانگ کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔ اس وفد میں آٹھویں جماعت سے لے کر بارہویں جماعت تک کے طالب علم شامل ہیں اور یہ دس روز تک چین میں رہیں گے۔

سکول کے دیگر طالب علموں کے غیر ملکی دورے بھی ترتیب دیے جا رہے ہیں جن میں متحدہ عرب امارات کا دورہ بھی شامل ہے۔

دسویں جماعت کے ایک طالب علم مبین سکول پر حملے میں زخمی ہو گئے تھے۔ ان کا نام بھی غیر ملکی دورے کے لیے فہرست میں شامل کیا گیا تھا لیکن بعض وجوہات کے بنیاد پر وہ اس دورے پر نہیں جا رہے۔

مبین نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ دورے اچھے ہیں۔ ان کے ساتھی خوش ہیں۔

مبین سے جب پوچھا کہ کیا ان دوروں سے وہ سکول پر حملے کا واقعہ بھول جائیں گے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ وہ کبھی نہیں بھلا سکتے لیکن ہاں یہ ضرور ہے کہ اس کی تلخی اور شدت کسی حد تک کم ہو جائے گی کیونکہ وقت بہترین مرہم ہے۔

مبین کے مطابق حملے کے وقت وہ آٹھ ساتھی جان بچانے کے لیے بھاگے تھے جس جگہ وہ چھپے تھے ان میں سے صرف تین زندہ ہیں باقی اب نہیں رہے۔

پشاور کے ایک شہری عبدالواحد قادری کے دو نواسے اس حملے میں ہلاک ہو گئےتھے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر ممالک کے دوروں کے اچھے اثرات سامنے نہیں آئیں گے۔

انھوں نے کہا ’ کسی کو چین تو کسی کو ہانگ کانگ اور آسٹریلیا بھیجا جا رہا ہے اس سے ان بچوں کے ذہن پر کیا اثرات پڑیں گے اور دوسرا یہ کہ دس دنوں میں کیا ہو جائے گا اس سے بہتر تھا کہ ان بچوں کو پاکستان کے مختلف شہروں کے دورے کرائے جاتے۔‘

پشاور میں محکمۂ صحت کی جانب سے ہسپتالوں میں نفسیاتی علاج کے لیے ٹراما سنٹرز بھی قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

بیشتر ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حملے میں بچ جانے والے بچوں، ان کے والدین اور یہاں تک کے پشاور کے بیشتر شہریوں کو نفسیاتی حمایت کی ضرورت ہے۔

آرمی پبلک سکول اینڈ کالج پر حملے کو ڈیڑھ ماہ سے زیادہ وقت گزر چکا ہے لیکن پشاور میں فضا آج بھی سوگوار ہے۔ یہاں بیشتر تعلیمی ادارے کھل چکے ہیں جہاں کہیں کہیں حفاظتی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔

پشاور میں محکمۂ صحت کی جانب سے ہسپتالوں میں نفسیاتی علاج کے لیے ٹراما سنٹرز بھی قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپشاور میں محکمۂ صحت کی جانب سے ہسپتالوں میں نفسیاتی علاج کے لیے ٹراما سنٹرز بھی قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے