سانحہ پشاور کے ہلاک شدگان کا چہلم، صوبے میں تعطیل

چہلم کی تقریب میں ہلاک شدگان کے لیے قرآن خوانی کی جائے گی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنچہلم کی تقریب میں ہلاک شدگان کے لیے قرآن خوانی کی جائے گی
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پشاور میں آرمی پبلک سکول اینڈ کالج میں گذشتہ ماہ طالبان کے حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں کا چہلم منگل کو صوبہ خیبر پختونخوا میں سرکاری سطح پر منایا جا رہا ہے۔

16 دسمبر 2014 کو ہونے والے اس حملے میں 150 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں 135 سے زیادہ بچے شامل تھے۔

چہلم کے موقعے پر وزیرِ اعلیٰ پرویز خٹک نے صوبے میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔

چہلم کی مرکزی تقریب وزیر اعلیٰ ہاؤس میں ہی منعقد ہو رہی ہے جس میں ہلاک شدگان کے لیے قرآن خوانی کی جائے گی۔

اس تقریب میں ہلاک اور زخمی ہونے والے بچوں کے والدین اور سکول کے اساتذہ کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان بھی چہلم کی دعائیہ تقریب میں شرکت کر رہے ہیں جبکہ دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو بھی اس میں مدعو کیا گیا ہے۔

چند روز قبل آرمی پبلک سکول کے دورے کے موقعے پر عمران خان کو والدین کے احتجاج کا سامنا کرنا پڑا تھا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنچند روز قبل آرمی پبلک سکول کے دورے کے موقعے پر عمران خان کو والدین کے احتجاج کا سامنا کرنا پڑا تھا

تحریک انصاف کے رہنما اور اس تقریب کے منتظم بیرسٹر یونس ظہیر نے چند دن قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ سانحہ پورے پاکستان کا ہے اور اس کے لیے صرف تحریک انصاف نہیں بلکہ دیگر تمام جماعتوں کے قائدین کو مدعو کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ چہلم کی تقریب میں ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کیا جائے گا تاکہ انھیں بتایا جائے کہ وہ اکیلے نہیں ہیں بلکہ تمام لوگ ان کے ساتھ ہیں۔

خیال رہے کہ چند روز قبل جب صوبے میں حکمران جماعت تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے آرمی پبلک سکول کا دورہ کیا تھا تو انھیں والدین کے احتجاج کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

تاہم تحریک انصاف کے قائدین کا دعویٰ ہے کہ اس احتجاج میں سیاسی لوگ شامل تھے۔