سانحۂ پشاور کے چار مجرمان کے بلیک وارنٹ جاری

ماہرین کا کہنا ہے کہ بلیک وارنٹ اس وقت جاری ہوتے ہیں جب کوئی بھی مجرم اس سزا کے خلاف اپنے تمام قانونی حق استعمال کرچکا ہو

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنماہرین کا کہنا ہے کہ بلیک وارنٹ اس وقت جاری ہوتے ہیں جب کوئی بھی مجرم اس سزا کے خلاف اپنے تمام قانونی حق استعمال کرچکا ہو
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے مقدمے میں گرفتار مجرمان میں سے چار کی سزائے موت کے بلیک وارنٹس پر دستخط کر دیے ہیں۔

آرمی پبلک سکول پر گذشتہ برس 16 دسمبر کو ہونے والے حملے میں 140 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سے اکثریت طلبا کی تھی۔

<link type="page"><caption> سانحہ پشاور کے مجرمان کی رحم کی اپیلیں مسترد</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/11/151120_aps_mercy_appeal_rejected_zh" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ’پشاور سکول حملے کے نو حملہ آور ہلاک، 12 گرفتار‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/02/150212_ispr_aps_azb_briefing_rh" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> پشاور آرمی سکول پر حملے کے چھ مجرموں کو سزائے موت</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/08/150813_army_court_aps_sentensed_zh" platform="highweb"/></link>

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے پیر کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ جن مجرمان کے بلیک وارنٹ جاری کیے گئے ہیں اُن میں مولوی عبدالسلام، حضرت علی، مجیب الرحمٰن عرف نجیب اللہ اور سبیل عرف یحییٰ شامل ہیں۔

ان مجرموں میں سے مولوی عبدالسلام سرکاری ملازم اور پشاور میں محکمہ آبپاشی کی مسجد کے پیش امام تھے اور ان پر حملہ آوروں کو رہائش فراہم کرنے کا الزام ہے۔

بقیہ تینوں مجرموں پر آرمی پبلک سکول پر حملہ کرنے والوں کی مدد کا الزام ہے تاہم حکام کی جانب سے مدد کی نوعیت کے بارے میں وضاحت نہیں کی گئی ہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں نے 16 دسمبر کو پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملہ کر کے طالب علموں سمیت 140 سے زائد افراد کو ہلاک کر دیا تھا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنکالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں نے 16 دسمبر کو پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملہ کر کے طالب علموں سمیت 140 سے زائد افراد کو ہلاک کر دیا تھا

قانونی ماہرین کے مطابق مجرمان کے بلیک وارنٹ جاری ہونے کے بعد اُنھیں کسی بھی وقت تختہ دار پر لٹکایا جاسکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بلیک وارنٹ اس وقت جاری ہوتے ہیں جب کوئی بھی مجرم اس سزا کے خلاف اپنے تمام قانونی حق استعمال کرچکا ہو۔

واضح رہے کہ چند روز قبل صدر مملکت نے وزیر اعظم کی ہدایت پر آرمی پبلک سکول کے ان چار مجرموں کی رحم کی اپیلیں مسترد کر دی تھیں۔

ان چاروں مجرموں نے فوجی عدالت کی طرف سے ملنے والی سزائے موت کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں کب چیلینج کیا اس بارے میں کوئی معلومات نہیں تھیں اور نہ ہی اس بارے میں معلوم ہوسکا ہے کہ ان مجرموں کی سزا کے خلاف اپیلوں کی پیروی کن وکلا نے کی تھی۔

سپریم کورٹ کے سترہ رکنی بینچ کی اکثریت میں فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلہ دیتے ہوئے عام شہریوں کا فوجی عدالتوں میں ٹرائیل کرنے کے ساتھ ساتھ فوجی عدالتوں کے فیصلوں کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا بھی فیصلہ دیا تھا۔