سانحہ پشاور کے مجرمان کی رحم کی اپیلیں مسترد

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے صدر ممنون حسین نے پشاور میں آرمی پبلک سکول پر ہونے والے حملے کے مقدمے میں فوجی عدالتوں کی طرف سے چار مجرموں کو ملنے والی سزائے موت کے خلاف رحم کی اپیلیں مسترد کر دی ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے صدر مملکت کو فوجی عدالتوں کی طرف سے ملنے والی سزائے موت کے خلاف رحم کی ان اپیلوں کو مسترد کرنے کی سفارش کی تھی۔
وزیر اعظم پاکستان نے صدر ممنون حسین کو یہ سفارش آئین کے آرٹیکل 105 کے تحت کی تھی۔
وزیر اعظم ہاؤس کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ گذشتہ برس آرمی پبلک سکول پر حملہ کرنے والے اور بچوں کو بہیمانہ طریقے سے ہلاک کرنے والے مجرمان کسی طور پر بھی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔
بیان میں کہا گیا تھا کہ اس واقعے کے بعد پوری قوم شدت پسندی کے خلاف متحد ہو گئی تھی جبکہ اس واقعے کے بعد پارلیمنٹ نے ایسے شدت پسندوں کو اُن کے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے آرمی ایکٹ میں ترمیم کر کے ان عدالتوں کو بااختیار بنایا ہے تاکہ وہ مختصر عرصے میں ایسے مجرموں کے مقدمات کی سماعت مکمل کر کے اُنھیں کیفر کردار تک پہنچائیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پوری قوم کی شدید خواہش ہے کہ ایسے مجرمان کو جلد از جلد کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
واضح رہے کہ فوجی عدالتوں نے آرمی پبلک سکول پر حملہ کرنے کے الزام میں چھ افراد کو موت کی سزا سنائی تھی۔ ابھی تک یہ حقیقت سامنے نہیں آ سکی کہ سزائے موت پانے والے افراد کے مقدمات کی پیروی کون کر رہا ہے اور یہ بھی ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا کہ ان مجرمان نے فوجی عدالتوں کے طرف سے ملنے والی سزا کے خلاف ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں کوئی درخواست دائر کی ہے یا نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پشاور ہائی کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے فوجی عدالتوں سے موت کی سزا پانے والے دو افراد کی سزا پر عمل درآمد روک دیا تھا تاہم یہ مجرمان فوجی تنصیبات اور سکیورٹی فورسز پر حملہ کرنے کے مقدمات میں ملوث ہیں۔







