اے پی ایس حملہ: اہم ملزم اٹلی سے گرفتار، پاکستان کے حوالے

 16 دسمبر کو آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے میں کم از کم 132 بچوں سمیت 141 افراد ہلاک ہوئے تھے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن 16 دسمبر کو آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے میں کم از کم 132 بچوں سمیت 141 افراد ہلاک ہوئے تھے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے میں ملوث کالعدم تنظیم کے ایک اہم ملزم کو اٹلی سے گرفتار کرنے کے بعد پاکستانی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

ملزم کو اٹلی سے گرفتار کیا گیا ہے اور اُن کی گرفتاری انٹرپول کے ذریعے عمل میں لائی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق اطالوی پولیس ملزم عثمان غنی کو رات تین بجے نجی پرواز کے ذریعے اسلام آباد لائی جہاں اس کو ایف آئی اے کے حوالے کردیا گیا۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے نے ملزم عثمان غنی کو اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والے اداروں کے سپرد کر دیا ہے۔

ایف آئی اے کے ایک اہلکار کے مطابق آرمی پبلک سکول پر حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار ہونے والے افراد سے پوچھ گچھ کے دوران ملزم عثمان غنی کا نام سامنے آیا جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ اس واقعہ کے چند روز کے بعد اٹلی فرار ہوگئے تھے۔

اہلکار کے مطابق عثمان غنی کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی کا رہنے والا ہے اور اس واقعے سے پہلے متعدد شدت پسندی کی وارداتوں کی منصوبہ بندی بھی کرچکا ہے۔

اس مقدمے میں ابھی تک چھ ملزمان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ابھی تک گرفتار نہیں ہوئے
،تصویر کا کیپشناس مقدمے میں ابھی تک چھ ملزمان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ابھی تک گرفتار نہیں ہوئے

ایف آئی اے کے اہلکار کے بقول ملزم پر متعدد کالعدم تنظیموں کو مالی معاونت فراہم کرنے کا بھی الزام ہے تاہم اس بارے میں تحقیقات ابھی جاری ہیں۔

آرمی پبلک سکول پر ہونے والے حملے میں 12 ملزمان کوگرفتار کیا جاچکا ہے اور فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کے مطابق ان ملزمان کا تعلق کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے ہے۔

اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے افراد بھی اُن مجرمان میں شامل ہیں جنھیں فوجی عدالتوں نے موت اور عمر قید کی سزائیں سنائی ہیں۔

اس مقدمے کے چھ ملزمان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ابھی تک گرفتار نہیں ہوئے۔

پاکستان کے تحقیقاتی اداروں نے آرمی پبلک سکول پر حملے کا ماسٹر مائنڈ تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ کو قرار دیا ہے اور ان اداروں کے بقول اس حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی تھی۔

واضح رہے کہ 16 دسمبر کو آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے میں کم از کم 132 بچوں سمیت 141 افراد ہلاک ہوئے تھے۔