طالبان کے ہاتھوں بچوں کا قتل عام: سو طلبا سمیت 141 ہلاک

زخمیوں کو سی ایم ایچ اور لیڈی ریڈنگ ہسپتال لے جایا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنزخمیوں کو سی ایم ایچ اور لیڈی ریڈنگ ہسپتال لے جایا گیا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں واقع آرمی پبلک سکول پر طالبان شدت پسندوں کے حملے میں کم از کم 100 بچوں سمیت 141 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

حکومتِ خیبر پختونخوا کا کہنا ہے کہ اس حملے کے دس گھنٹے بعد سکول کی عمارت میں تلاش اور بچاؤ کا آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے جس میں چھ شدت پسند ہلاک کیے گئے ہیں۔

وزیراعظم پاکستان نے اس واقعے پر تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔

حکام کے مطابق یہ واقعہ منگل کی صبح ورسک روڈ پر واقع آرمی پبلک سکول میں پیش آیا جب ایف سی کی وردی میں ملبوس آٹھ سے دس مسلح دہشت گردوں نے سکول کی عمارت میں داخل ہو کر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔

سکول میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن کئی گھنٹے جاری رہا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنسکول میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن کئی گھنٹے جاری رہا

خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ کے ترجمان نجیع اللہ خان نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ ہلاک شدگان کی تعداد بڑھ کر 135 ہو چکی ہے جبکہ 114 افراد زخمی ہیں جن میں سے پانچ کی حالت نازک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 100 افراد کی لاشیں سی ایم ایچ جبکہ 30 کی لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں موجود ہیں جبکہ پانچ افراد کی لاشیں ممکنہ طور پر ہسپتال سے لے جائی جا چکی ہیں۔

پاکستانی فوج کے مطابق سکول میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن اپنے اختتامی مراحل میں ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم باجوہ کا کہنا ہے کہ سکول میں موجود چھ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے اور دہشت گردوں کی جانب سے نصب کیے گئے دیسی ساختہ بموں کی وجہ سے کلیئرنس کا عمل سست ہے۔

ہلاک ہونے والے طلبا و طالبات کے والدین اور رشتہ دار صدمے کی حالت میں ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنہلاک ہونے والے طلبا و طالبات کے والدین اور رشتہ دار صدمے کی حالت میں ہیں

میجر جنرل عاصم باجوہ نے فوج کی سربراہ جنرل راحیل شریف سے منسوب بیان بھی ٹویٹ کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’شدت پسندوں نے اس قوم کے قلب پر حملہ کیا ہے۔ لیکن میں ایک بار پھر دہرا دوں کہ شدت پسند اس عظیم قوم کے عزم کو کم نہیں کر سکتے۔‘

جنرل راحیل نے یہ بھی کہا کہ ’اس بزدلانہ حملے جس میں معصوم افراد کو ہدف بنایا گیا سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نہ صرف پاکستان کے دشمن ہیں بلکہ انسانیت کے دشمن ہیں۔‘

پاکستانی کی وفاقی اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے اس واقعے پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے جبکہ وزیرِ اعظم پاکستان صورتحال کی نگرانی کرنے کے لیے خود پشاور پہنچ گئے ہیں۔

زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنزخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے

اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم شدت پسند تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان نے قبول کر لی ہے۔

تنظیم مرکزی ترجمان محمد عمر خراسانی نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے چھ حملہ آور سکول میں داخل ہوئے ہیں‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ کارروائی شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن ضربِ عضب اور خیبر ایجنسی میں جاری آپریشن خیبر ون کے جواب میں ہے۔

خیال رہے کہ پاکستانی افواج گذشتہ چند ماہ سے شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں اور اس دوران فوج کی جانب سے شدت پسندوں سے وسیع علاقہ کلیئر کروانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔