’الزام تراشی کی جگہ حقائق جاننے کا طریقۂ کار وضع کرنا ضروری‘

کانفرنس کے افتتاح کے بعد اشرف غنی نے وزیرِاعظم ہاؤس میں نواز شریف سے ملاقات بھی کی

،تصویر کا ذریعہPID

،تصویر کا کیپشنکانفرنس کے افتتاح کے بعد اشرف غنی نے وزیرِاعظم ہاؤس میں نواز شریف سے ملاقات بھی کی

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے افغانستان کے بارے میں منعقد ہونے والی’ہارٹ آف ایشیا‘ کانفرنس سے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ افغانستان پاکستان کے لیے ایک ہمسائے سے کہیں بڑھ کر ہے اور پاکستان ہمیشہ افغانستان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

ادھر افغان صدر اشرف غنی کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک الزام تراشی کے کھیل میں نہیں پڑنا چاہتے اور اس لیے حقائق جاننے کا طریقۂ کار وضع کرنا ضروری ہے۔

بدھ کو اسلام آباد میں افغان صدر کے ہمراہ کانفرنس کا باقاعدہ افتتاح کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہمسایوں سے پرامن تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی جزو ہے۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام پورے خطے کے لیے اہم ہے۔ ’ہم سمجھتے ہیں کہ امن ترقی کے لیے کلیدی اور ترقی دیرپا امن کے لیے ناگزیر ہے۔‘

وزیرِ اعظم نے کہا کہ وہ اپنے اس موقف کو دہرانا چاہتے ہیں کہ افغانستان کے دشمن پاکستان کے دشمن ہیں اور پاکستان افغانستان کی سربراہی میں امن اور مفاہمتی عمل کا حامی ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ مہاجرین کی سرحد پار نقل و حمل ایک سکیورٹی رسک ہے اور شرپسند اس کا اپنے مذموم مقاصد کے لیے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشننواز شریف نے کہا کہ مہاجرین کی سرحد پار نقل و حمل ایک سکیورٹی رسک ہے اور شرپسند اس کا اپنے مذموم مقاصد کے لیے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان ایک خودمختار ملک ہے اور وہاں جمہوری طور پر منتخب حکومت ہی ملک کی واحد جائز اتھارٹی ہے۔‘

نواز شریف نے کہا کہ عالمی برداری کو چاہیے کہ وہ اس کی علاقائی خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے امن عمل کے لیے افغان حکومت کی ہر ممکن مدد کرے۔

انھوں نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ چاہتا ہے اور اس کے لیے سرحد پار دراندازی کا سلسلہ روکنا اور سرحدوں کو محفوظ بنانا ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ ’دہشت گردی ہم سب کی مشترکہ دشمن ہے اور اس عفریت سے ہمیں مل کر نمٹنا ہوگا۔‘

نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’مہاجرین کی سرحد پار نقل و حمل ایک سکیورٹی رسک ہے اور شرپسند اس کا اپنے مذموم مقاصد کے لیے فائدہ اٹھاتے ہیں۔‘

اس موقع پر اپنے خطاب میں افغان صدر نے کہا کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ مضبوط روابط کا خواہشمند ہے۔

افغانستان میں بہت حد تک یہ غیریقینی پائی جاتی تھی کہ پاکستان وہاں بننے والی حکومت کی خودمختاری تسلیم کرے گا کہ نہیں لیکن پاکستانی وزیرِاعظم کی یقین دہانیاں اثرانگیز ہیں۔

اشرف غنی کا کہنا تھا کہ ان کا ملک خطے کے دیگر ممالک کی جنگ لڑ رہا ہے اور امن کے لیے کثیرالجہتی حکمتِ عملی تشکیل دینا ہوگی۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان میں تنازعے کی پہلی وجہ دہشت گرد گروپ ہیں جو صرف خطے کے لیے نہیں بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی بڑا مسئلہ ہیں۔

افغان صدر نے کہا کہ پاکستانی حکومت کی جانب سے سرحدی علاقوں میں فوجی آپریشن کے نتیجے میں بھی وہاں سے دہشت گردوں نے افغانستان کا رخ کیا تاہم سیاسی عمل کا حصہ بننے کے لیے تمام مسلح گروہوں کو ہتھیار پھینکنے ہوں گے۔

اشرف غنی نے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے نظام وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جس میں دہشت گردوں کے مالی معاونین کی نشاندہی ہو سکے۔’

ان کا کہنا تھا کہ 2015 میں افغانستان کو اپنی بقا کی جنگ لڑتا رہا ہے اور وہ پرامید ہیں کہ 2016 میں صورتحال تبدیل ہوگی۔

اشرف غنی کا کہنا تھا کہ ان کا ملک خطے کے دیگر ممالک کی جنگ لڑ رہا ہے اور امن کے لیے کثیرالجہتی حکمتِ عملی تشکیل دینا ہوگی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناشرف غنی کا کہنا تھا کہ ان کا ملک خطے کے دیگر ممالک کی جنگ لڑ رہا ہے اور امن کے لیے کثیرالجہتی حکمتِ عملی تشکیل دینا ہوگی

اشرف غنی کا کہنا تھا کہ وہ کئی دہائیوں سے افغان پناہ گزینوں کی میزبانی پر پاکستان کے شکرگزار ہیں لیکن پناہ گزینوں کا مسئلہ ایک مشترکہ مسئلہ ہے۔

افغان صدر کا کہنا تھا افغانستان میں بھی ساڑھے تین سے پانچ لاکھ پاکستانی پناہ گزین موجود ہیں۔

’ہارٹ آف ایشیا‘ کانفرنس استنبول عمل کا حصہ ہے، جو افغانستان میں قیامِ امن کے لیے سنہ 2011 میں شروع کیا گیا تھا۔

اس کانفرنس کے ارکان کی تعداد 14 ہے اور بدھ کو اس سلسلے کے پانچویں وزارتی اجلاس میں بھارت سمیت دس ممالک کے وزرائے خارجہ سمیت 27 ممالک اور 12 عالمی تنظیموں کے نمائندے بھی شریک ہیں۔