پیرس میں نواز شریف اور اشرف غنی کی ملاقات

بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں 14 سال سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے’امن مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے پر بھی بات چیت ہوئی ہے‘

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنبیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں 14 سال سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے’امن مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے پر بھی بات چیت ہوئی ہے‘

پیر کو پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے دفتر سے ایک بیان جاری ہوا ہے جس کے مطابق وزیرِ اعظم نے پیرس میں عالمی ماحولیاتی کانفرنس کے موقع پر افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی ہے۔

ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر کرنے پر بھی بات چیت کی۔

اس سال کے ابتدا میں کابل میں شدت پسندوں نے سلسلہ وار حملے کیے تھے جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بگڑ گئے تھے اور افغانستان کا دعویٰ تھا کہ حملہ آوروں میں پاکستانی نژاد شدت پسند بھی شامل تھے۔

وزیر عاظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں 14 سال سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے’امن مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’دونوں رہنماؤں نے ان سب لوگوں کے ساتھ تعاون کرنے پر اتفاق کیا ہے جو امن مذاکرات کے عمل میں سیاسی کردار ادا کریں گے اور افغان حکومت کے ساتھ ان لوگوں کے خلاف لڑیں گے جو امن کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہتے ۔‘

افغانستان میں جاری تشدد اور کشیدگی سے ہر ماہ سینکڑوں لوگ ہلاک ہو رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنافغانستان میں جاری تشدد اور کشیدگی سے ہر ماہ سینکڑوں لوگ ہلاک ہو رہے ہیں

واضح رہے کہ پاکستان نے جولائی میں افغان حکومت اور طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کا پہلا مرحلہ شروع کیا تھا۔

افغان طالبان ملک میں دوبارہ شریعت قائم کرنا چاہتے ہیں جو سنہ 2001 میں امریکہ کی قیادت میں فوجی مداخلت کی وجہ سے ختم کر دی گئی تھی۔

تاہم مذاکرات کے سلسلوں کے دوسرے مرحلے کو اس وقت منسوخ کر دیا گیا تھا جب یہ انکشاف کیا گیا کہ طالبان کے بانی اور تنہائی پسند رہنما ملا محمد عمر دو سال پہلے انتقال کرگئے تھے۔

پاکستان نے ملا عمر کی موت کی خبر کا انکشاف کرنے والوں پر الزام عائد کیا تھا کو وہ مذاکرات میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے۔

اشرف غنی کی حکومت کو ستمبر میں اس وقت ایک بڑی شکست کا سمانا کرنا پڑا تھا جب طالبان نے ایک صوبائی دارالحکومت پر مختصر قبضہ کر لیا تھا۔

طالبان کے نئے رہنما ملا اختر منصور نے اب تک مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے کے حق میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

لیکن قطر میں قائم ان کی تحریک کے دفتر میں ایک نئے عملے کی بھرتی سے مذاکراتی عمل دوبارہ شروع ہونی کی امید جاگی ہے۔

پیر کو پاکستان اور افغانستان کے رہنماؤں کی ملاقات کے سلسلے میں اب تک افغان حکومت کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

دریں اثنا افغانستان میں جاری تشدد اور کشیدگی سے ہر ماہ سینکڑوں لوگ ہلاک ہو رہے ہیں۔