افغان طالبان سے الحاق کی خبریں، ٹی ٹی پی کی بھی تردید

،تصویر کا ذریعہAP
کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے افغان طالبان کے ساتھ اتحاد کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا اس قسم کے الحاق کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور اتحاد سے متعلق بیان ان کی ہیک ای میل سے کسی نے جاری کیا تھا۔
دوسری جانب اس سے قبل افغان طالبان نے بھی کسی اتحاد کی تردید کی تھی۔
<link type="page"><caption> افغان طالبان کی پاکستانی طالبان سے اتحاد کی تردید</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/regional/2015/10/151022_taliban_ttp_alliance_ra" platform="highweb"/></link>
کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اعتراف کیا ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ اتحاد سے متعلق بیان ان کی ہیک ای میل سے کسی نے جاری کیا تھا۔
بی بی سی کو بھیجی گئی ایک نئی ای میل میں تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان محمد خراسانی کا کہنا تھا کہ ان کی جنگ پاکستان سے ہے اور امارت اسلامی افغانستان یعنی افغان طالبان کے حوالے سے چلنے والی خبر جھوٹی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی توجہ کا مرکز اب بھی پاکستان ہے۔
اگرچہ پاکستان طالبان کسی حملے کی ذمہ داری قبول کرنے میں وقت بظاہر ضائع نہیں کرتے لیکن اتحاد کی خبر کی تردید میں انھوں نے 24 گھنٹوں سے زائد وقت لیا۔
جمعرات کو محمد خراسانی کے ہی نام سے ایک نئی ای میل کے ذریعے دعوی کیا گیا تھا کہ انھوں نے افغان طالبان کے ساتھ مل کر کارروائیاں کرنے کا اب فیصلہ کیا ہے۔ جعلی بیان میں اس بابت تفصیلی مشترکہ بیان جاری کرنے کا وعدہ بھی کیا گیا تھا۔
بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق اس جھوٹی خبر کو پھیلانے کا مقصد اب تک واضح نہیں ہوسکا ہے۔ سینر صحافی رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ یہ پہلے سے واضح تھا کہ افغان طالبان کو یہ قابل قبول نہیں ہوگا کہ پاکستانی طالبان کے ساتھ مل کر وہ پاکستان کو اپنا دشمن بنائیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







