پاکستانی سرحد کے قریب دولتِ اسلامیہ کی سرگرمیاں

،تصویر کا ذریعہISLAMIC STATE
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کی سرحد سے متصل افغانستان کے صوبے ننگرہار میں خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی تنظیم کی کارروائیوں میں گذشتہ کچھ عرصہ سے تیزی آ رہی ہے۔
بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ بعض افغان طالبان تنظیمیں بھی دولتِ اسلامیہ کے مقابلے میں خاموشی اختیار کر کے ان کے لیے علاقہ چھوڑ رہی ہیں۔
افغانستان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پچھلے چند ماہ سے دولت اسلامیہ کے جنگجو افغان صوبے ننگرہار کے پاک افغان سرحدی اور پہاڑی اضلاع اچین، نازیان، دیہ بالا، پچیر آگام، شنواری، سپین غر او بٹی کوٹ میں اپنی کارروائیوں میں تیزی لا رہے ہیں جس کی وجہ سے ان علاقوں سے لوگوں نے بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
کابل اور ننگرہار میں کام کرنے والے افغان صحافی محمد اسمعیل کا کہنا ہے کہ ڈیورنڈ لائن کے اس پار افغان علاقوں میں اب دولت اسلامیہ کے لیے بظاہر کوئی بڑا خطرہ نظر نہیں آ رہا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
انھوں نے کہا کہ ابتدا میں جب دولتِ اسلامیہ کے جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے تو ان کا سامنا طالبان سے ہوا اور پھر کچھ عرصہ تک ان کے درمیان خونریز جھڑپیں بھی ہوتی رہیں لیکن اب کچھ عرصہ سے خاموشی ہے اور وہ بیشتر لڑائیاں حکومتی فورسز کے خلاف لڑ رہے ہیں۔
ان کے مطابق دولت اسلامیہ کی کارروائیوں کی وجہ سے کئی علاقوں سے لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے اور زیادہ تر لوگ ننگرہار کے دارالحکومت جلال آباد پہنچ رہے ہیں جہاں سے بعض خاندان پاکستان کی طرف بھی منتقل ہوئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جلال آباد کے مکینوں کا کہنا ہے کہ جس طرح دولتِ اسلامیہ کے جنگجو ظالمانہ طریقے سے اپنے مخالفین کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں اس سے عام لوگوں میں انتہائی خوف اور دہشت کی کیفیت پائی جاتی ہے۔
پاکستان کی طرح افغانستان بھی ابتدائی دنوں میں دولتِ اسلامیہ کی وجود سے انکار کرتا رہا ہے تاہم اب افغان حکومت بھی یہ تسلیم کر چکی ہے کہ شدت پسند تنظیم کا اثر و رسوخ دو صوبوں ننگرہار اور ہلمند میں موجود ہے۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ دولت اسلامیہ کے جنگجو طورخم جلال آباد ہائی وے کے قریب بھی اپنا رسوخ بڑھا رہے ہیں۔
طورخم جلال آباد ہائی وے جلال آباد شہر اور کابل جانے کےلیے اہم شاہراہ سمجھی جاتی ہے۔ یہ شاہراہ پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی سے ملی ہوئی ہے اور پاکستان سے افغانستان جانے والا تمام سامان بھی اسی شاہراہ سے جاتا ہے۔ آج کل اس شاہراہ کی مرمت اور کشادگی کا کام بھی جاری ہے جو پاکستان کے تعاون سے کیا جا رہا ہے۔
ادھر پاکستان کے سرحد سے محلق افغان صوبوں میں سرگرم افغان طالبان کی ایک تنظیم ’تورہ بورہ جہادی فرنٹ‘ کے سربراہ اور سابق مجاہدین کمانڈر مولوی یونس خالص کے صاحبزادے مولوی انوار الحق مجاہد نے اپنا ’جہادی محاذ‘ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
تورہ بورہ جہادی محاذ کی ویب سائٹ پر جاری ایک مختصر بیان میں مولوی انوار الحق کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں کچھ ایسے مسائل سامنے آئے ہیں جس کی وجہ سے موجود حالات وہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتے اور نہ اپنی کارروائیاں جاری رکھ سکتے ہیں لہٰذا وہ موجود ’جہادی محاذ‘ ختم کر رہے ہیں تاہم بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ بہت جلد ایک نئی شکل میں ’جہادی ‘ سرگرمیوں کا آغاز کریں گے۔
تورہ بورہ محاذ گذشتہ کئی سالوں سے امارت اسلامیہ کے ماتحت کام کرتا رہا ہے جو افغان طالبان کی ذیلی تنظیم ہے۔ اس تنظیم کا اثر و رسوخ ان افغان علاقوں میں زیادہ پایا جاتا ہے جہاں آج کل دولت اسلامیہ کے جنگجو سرگرم ہیں۔
تاہم ملا عمر کی وفات کے بعد جب ملا محمد منصور امارت اسلامیہ کے سربراہ چنے گئے تو تورہ بورہ محاذ کے سربراہ مولوی انوار الحق نے اس کی مخالفت کی اور ابھی تک اس کی بیعت نہیں کی ہے اور نہ اس ضمن میں کوئی باضابطہ بیان جاری کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہISIS
مولوی انوارالحق اس سے پہلے ننگرہار اور پکتیا صوبے کے لیے طالبان کے’شیڈو‘ گورنر بھی رہ چکے ہیں۔ وہ روس کے خلاف افغان جنگ کے دوران افغانستان کے مشرقی صوبوں کے اہم کمانڈر اور عالم دین مولوی یونس خالص کے صاحبزادے ہیں جو جہادی تنظیم حزب اسلامی (خالص) کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔
بعض سینیئر افغان صحافیوں کا کہنا ہے کہ تورہ بورہ جہادی محاذ نے دولت اسلامیہ کے لیے افغانستان میں میدان کھلا چھوڑ دیا ہے یا ایسے سمجھ لیں کہ جیسا ان کو اس علاقے سے نکال دیا گیا ہو۔







