ننگر ہار میں دولتِ اسلامیہ نے افیون کی کاشت پر پابندی لگا دی

- مصنف, سید انور
- عہدہ, بی بی سی، کابل
افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار کے کچھ علاقوں میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے مقامی لوگوں، خاص کر زمینداروں اور کسانوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی فصلوں پر افیون کاشت نہ کریں۔
اس کے علاوہ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں دولتِ اسلامیہ کے نام سے مسلح افراد سرگرم ہیں وہاں بھی لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ سگریٹ اور دوسری نشہ آور اشیا استعمال نہیں کر سکتے۔
صوبہ ننگر ہار کے ضلع شہرزاد میں ایک شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ ’دولتِ اسلامیہ کے اہلکاروں نے لوگوں کو کہا ہے کہ وہ زمینوں میں افیون کاشت نہ کریں۔ انھوں نے علاقے کی دکانوں میں چرس، افیون، نسوار اور دیگر نشہ آور اشیا پر بھی پابندی لگا دی ہے۔ جو لوگ چرس اور سگریٹ استعمال کرتے ہیں ان کے منہ پر طمانچے مارے جاتے ہیں۔‘
مقامی حکام نے ابھی تک اس بارے میں کچھ نہیں کہا کہ صوبہ ننگر ہار کے کچھ علاقوں میں دولتِ اسلامیہ کے اہلکاروں نے افیون کی کاشت پر پابندی کیوں عائد کی ہے۔
اس صوبے میں دولتِ اسلامیہ کے نام سے سرگرم افراد کی جانب سے بھی مزید معلومات نہیں ملی ہیں کہ یہ قدم ان کی جانب سے کیوں اٹھایا گیا ہے۔
صوبہ ننگرہار میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ بھی واضح نہیں کہ افیون کی کاشت پر پابندی لگانا دولتِ اسلامیہ کا اصول ہے یا صوبہ ننگر ہار میں دولتِ اسلامیہ کے نام سے سرگرم افراد نے مقامی طور خود ہی یہ فیصلہ کیا ہے۔
تاہم طالبان گذشتہ برسوں میں صوبہ ننگرہار میں افیون کی کاشت پر پابندی نہیں لگاتے تھے۔
گذشتہ چند مہینوں میں صوبہ ننگرہار کے کچھ ضلعوں میں طالبان اور دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کے درمیان شدید لڑائی کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس لڑائی میں اب تک دونوں جانب سے دو سو سے زیادہ شدت پسند مارے گئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







