افغانستان میں طالبان کے متحارب گروپوں میں جھڑپیں

،تصویر کا ذریعہ
افغانستان کے صوبہ زابل میں حکام کے مطابق طالبان کے متحارب گروپوں میں شدید جھڑپوں میں فریقین کے درجنوں جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔
گذشتہ ہفتے ہی افغان طالبان کی قیادت کے مسئلے پر اختلافات کے بعدایک دھڑے نے سابق طالبان گورنر ملا محمد رسول کو اپنا قائد بنانے کا اعلان کیا تھا۔
بی بی سی کو مقامی افغان حکام نے بتایا ہے کہ اب تک کی لڑائی میں تقریباً 70 افراد مارے جا چکے ہیں۔
ملا اختر منصور گروپ کے ایک حمایتی کمانڈر نے نام ظاہر نہ کرنے شرط پر امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا ہے کہ محمد رسول گروپ نے خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی تنظیم سے اتحاد کر لیا ہے کیونکہ اس گروپ میں زیادہ جنگجو نہیں ہیں۔
’یہ بات واضح ہے کہ ملا رسول گروپ اکیلا ملا اختر منصور کا سامنا نہیں کر سکتا اور اس لیے انھیں دولتِ اسلامیہ کی ضرورت ہے۔ ہم نے پہلے بھی یہ کہا ہے اور دوبارہ بھی کہتےہیں کہ یہ ثابت ہو جائے گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے زابل صوبے کے نائب پولیس سربراہ غلام جیلانی فراحی کے حوالے سے بتایا ہے کہ دونوں گروپوں کے درمیان سنیچر کی صبح لڑائی شروع ہوئی۔
دوسری جانب زابل صوبے کے گورنر انور اسحاقزئی کے مطابق ہمسایہ صوبہ غزنی سے اغوا ہونے والے سات افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔
اس کے علاوہ شدت پسندی کے ایک اور واقعے میں شیعہ ہزارہ برادری کے چار مردوں اور تین خواتین کے سر قلم کر دیے گئے ہیں۔

گورنر انور اسحاقزئی نے دونوں واقعات کا ذمہ داری دولتِ اسلامیہ کو قرار دیا ہے۔
افغان طالبان کے مخالف گروپ کے سربراہ ملا رسول افغانستان پر طالبان کے دورِ حکومت میں صوبہ نمروز کے گورنر بھی رہ چکے ہیں۔
ملا عمر کی ہلاکت کے اعلان کے بعد سے شدت پسند گروپ کی قیادت کا معاملہ اختلافات کا شکار رہا ہے۔
ملا عمر کی جگہ ملا اختر منصور کو طالبان کا نیا امیر مقرر کیا گیا تھا تاہم ابتدا میں ملا عمر کے بعض حامیوں کی جانب سے اس فیصلے کی مخالفت کی گئی تھی۔
طالبان کے نئے امیر کے اصل حریف ملا عمر کے بھائی اور بڑے بیٹے تھے جنھوں نے ملا منصور کی تقرری کے طریقے پر سوالات اُٹھائے تھے۔
تاہم رواں برس ستمبر میں افغان طالبان کا دعویٰ سامنے آیا کہ وہ تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے نئے رہنما ملا اختر محمد منصور کی سربراہی میں متحد ہیں۔







