فیکٹری حادثہ: ہلاکتوں میں اضافہ، ملبہ ہٹانے کا کام تاحال جاری
لاہور میں حکام کے مطابق بدھ کو منہدم ہونے والے کارخانے کے ملبے سے 42 لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ ملبہ ہٹانے کا کام اب بھی جاری ہے۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل اسفندیار بلوچ کے مطابق کل 60 زخمیوں میں سے دس کو گھر بھیج دیا گیا جبکہ 50 ابھی بھی زیر علاج ہیں۔
فوجی اہلکار، ریسکیو 1122 ، ضلعی حکومت اور دیگر فلاحی ادارے متواتر امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔
اس سے قبل ڈی سی او لاہور نے بتایا تھا کہ حاضری رجسٹر کے مطابق حادثے کے وقت عمارت میں کم سے کم 114 افراد موجود تھے۔
فیکٹری کے مالک کی لاش بھی نکال لی گئی ہے اور ان کی تدفین کر دی گئی ہے۔
ڈی سی او لاہور کے مطابق زیادہ تر ہلاکتیں عمارت کے گراؤنڈ فلور اور پہلی منزل پر ہوئی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے بتایا کے امدادی کارروائیاں ابھی جاری ہیں اور ان کے لیے کوئی حتمی وقت نہیں دیا جا سکتا کیونکہ ممکن ہے کہ ابھی مزید لوگ ملبے تلے دبے ہوں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
حادثے کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کے ارکان نے جمعرات کو جائے حادثہ کا دورہ کیا۔
جائے حادثہ پر امدادی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں تاہم بی بی سی کی نامہ نگار شائمہ خلیل کے مطابق خدشہ ہے کہ اب ملبے تلے کوئی زندہ فرد نہیں رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چار منزلہ عمارت کی دو منزلوں کا ملبا ہٹایا جا سکا ہے تاہم خدشہ ہے کہ حادثے کے وقت پہلی منزل پر بہت سے مزدور موجود تھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
فیکٹری میں کام کرنے والے ایک مزدور نے اے ایف پی کو بتایا کہ 50 سے زیادہ مزدور عمارت کے ایک ایسے حصے میں سو رہے تھے جہاں پہنچنا ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کام کرنے والوں میں 12 سال کی عمر تک کے بچے بھی شامل تھے۔
زندہ بچ جانے والے 22 سالہ مزدور رمضان کا کہنا ہے کہ انھوں نے عمارت کے منہدم ہونے سے چند لمحے پہلے اس میں دراڑیں پڑتے ہوئے دیکھی تھیں۔
’میں نے فوراً مالک کی توجہ ان دراڑوں کی جانب مبذول کروائی، وہ انھیں دیکھ رہے تھے جب چھت منہدم ہوگئی، میں نے انھیں کنکریٹ کے نیچے کچلے جاتے ہوئے دیکھا جس سے ان کی موت واقع ہوگئی۔‘
مذکورہ عمارت کی دو منزلوں میں شاپنگ بیگ بنانے کا کارخانہ قائم تھا اور چوتھی منزل کی تعمیر جاری تھی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ حال ہی میں آنے والے زلزلے سے اس عمارت کو جزوی نقصان پہنچا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP







