فیکٹری مہندم ہونے کے بعد امدادی کارروائیاں

لاہور میں بدھ کی رات تین منزلہ فیکٹری منہدم ہونے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری جبکہ خدشہ ہے کہ متعدد افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں منہدم ہونے والے کارخانے کے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی کارروائیاں جمعرات کو دوسرے دن بھی جاری ہیں۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں منہدم ہونے والے کارخانے کے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی کارروائیاں جمعرات کو دوسرے دن بھی جاری ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 19 ہوگئی ہے جبکہ خدشہ ہے کہ متعدد افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنریسکیو حکام کے مطابق اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 19 ہوگئی ہے جبکہ خدشہ ہے کہ متعدد افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
یہ واقعہ بدھ کو شہر کے نواح میں واقع صنعتی علاقے سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں پیش آیا تھا جب پہلے تین منزلہ کارخانے کی چھت اور پھر پوری عمارت منہدم ہوگئی تھی۔
،تصویر کا کیپشنیہ واقعہ بدھ کو شہر کے نواح میں واقع صنعتی علاقے سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں پیش آیا تھا جب پہلے تین منزلہ کارخانے کی چھت اور پھر پوری عمارت منہدم ہوگئی تھی۔
جائے وقوعہ پر امدادی سرگرمیوں میں 400 سے زائد افراد حصہ لے رہے ہیں جن میں ریسکیو 1122، پاک فوج، ایدھی فاؤنڈیشن جح علاوہ فلاح انسانیت فاؤنڈیشن سمیت متعدد تنظیموں کے کارکنان شامل ہیں۔
،تصویر کا کیپشنجائے وقوعہ پر امدادی سرگرمیوں میں 400 سے زائد افراد حصہ لے رہے ہیں جن میں ریسکیو 1122، پاک فوج، ایدھی فاؤنڈیشن جح علاوہ فلاح انسانیت فاؤنڈیشن سمیت متعدد تنظیموں کے کارکنان شامل ہیں۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے بی بی سی کو بتایا کہ حادثے کے بعد اب تک 103 افراد کو ملبے میں سے نکالا جا چکا ہے۔
،تصویر کا کیپشنپاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے بی بی سی کو بتایا کہ حادثے کے بعد اب تک 103 افراد کو ملبے میں سے نکالا جا چکا ہے۔
لاہور کے ضلعی رابطہ افسر کیپٹن (ر) عثمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب بھی ملبے تلے دبے لوگوں کی صحیح تعداد کے بارے حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا تاہم اندازہ ہے کہ مزید 50 سے 60 لوگ اب بھی دبے ہوئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنلاہور کے ضلعی رابطہ افسر کیپٹن (ر) عثمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب بھی ملبے تلے دبے لوگوں کی صحیح تعداد کے بارے حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا تاہم اندازہ ہے کہ مزید 50 سے 60 لوگ اب بھی دبے ہوئے ہیں۔
جائے حادثہ پر موجود حکام کا کہنا ہے کہ ملبہ ہٹانے میں ابھی مزید کئی گھنٹے کا وقت لگ سکتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنجائے حادثہ پر موجود حکام کا کہنا ہے کہ ملبہ ہٹانے میں ابھی مزید کئی گھنٹے کا وقت لگ سکتا ہے۔
موقع پر موجود ریسکیو 1122 کے ایک اہلکار نے بتایا کہ چند گھنٹے قبل ملبے سے آوازیں سنے جانے کی اطلاعات کے بعد ملبہ ہٹانے کا عمل روکا گیا تاہم اب دوبارہ بھاری مشینری کی مدد سے عمارت کی اوپری منزل کا ملبہ ہٹایا جا رہا ہے۔
،تصویر کا کیپشنموقع پر موجود ریسکیو 1122 کے ایک اہلکار نے بتایا کہ چند گھنٹے قبل ملبے سے آوازیں سنے جانے کی اطلاعات کے بعد ملبہ ہٹانے کا عمل روکا گیا تاہم اب دوبارہ بھاری مشینری کی مدد سے عمارت کی اوپری منزل کا ملبہ ہٹایا جا رہا ہے۔
حادثے کے بعد لاہور کے سروسز، جناح اور شریف میڈیکل سٹی میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنحادثے کے بعد لاہور کے سروسز، جناح اور شریف میڈیکل سٹی میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
اس سے قبل ریسکیو 1122 کے اہلکار نعیم مرتضیٰ نے بی بی سی کو بتایا کہ چھ مقامات سے عمارت کے اندر جانے کے لیے مشینری کے ذریعے راستہ بنایا گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ملبے کے نیچے موجود بہت سے افراد اب بھی زندہ ہیں۔
،تصویر کا کیپشناس سے قبل ریسکیو 1122 کے اہلکار نعیم مرتضیٰ نے بی بی سی کو بتایا کہ چھ مقامات سے عمارت کے اندر جانے کے لیے مشینری کے ذریعے راستہ بنایا گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ملبے کے نیچے موجود بہت سے افراد اب بھی زندہ ہیں۔
ریسکیو کے اہلکار کا کہنا ہے کہ مذکورہ عمارت کی دو منزلوں میں شاپنگ بیگ بنانے کا کارخانہ قائم تھا اور چوتھی منزل کی تعمیر جاری تھی۔
،تصویر کا کیپشنریسکیو کے اہلکار کا کہنا ہے کہ مذکورہ عمارت کی دو منزلوں میں شاپنگ بیگ بنانے کا کارخانہ قائم تھا اور چوتھی منزل کی تعمیر جاری تھی۔