کراچی:منہدم عمارت سے اٹھارہ لاشیں برآمد

عمارت کا انہدام
،تصویر کا کیپشنعمارت میں ایک اندازے کے مطابق تیس افراد قیام پذیر تھے
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی میں جمعہ کی رات زمین بوس ہونے والی عمارت سے اب تک تین کم سن بچوں سمیت اٹھارہ افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ حکام نےملبے میں مزید لاشوں کی موجودگی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

شہر کے قدیمی علاقے لی مارکیٹ کی کامل گلی میں گزشتہ شب ایک پانچ منزلہ عمارت دھماکے سے گرگئی تھی۔

گرنے والی عمارت تقریبا ایک سو مربع فٹ کے پلاٹ پر بنائی گئی تھی جس کی پہلی منزل پر ایک گودام تھا جبکہ باقی چار منزلوں پر لوگ رہتے تھے۔مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ اس عمارت میں تیس سے زائد افراد رہتے تھے جن میں سے اکثر میمن برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔

ریسکیو آپریشن کی نگرانی کرنے والے چیف فائر آفیسر احتشام الدین کا کہنا ہے کہ اب تک ملبے سے اٹھارہ لاشیں نکالی گئی ہیں جن میں اکثریت خواتین کی ہے۔ ان کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے کیونکہ ابھی کئی لوگ لاپتہ ہیں۔

گنجان آبادی کی وجہ سے رضاکاروں کو امدادی کاموں میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ رضاکاروں کی آمد سے پہلے مقامی لوگ بھی ایمرجنسی لائٹس اور ہتھوڑے لے کر جائے حادثہ پر پہنچ گئے اور ملبہ ہٹانے کی کوشش کی۔ سٹی حکومت کی جانب سے ملبہ ہٹانے کے لیے بھاری مشینری بھی بھیجی گئی مگر تنگ گلی ہونے کی وجہ سے یہ جائے حادثہ پر پہنچ نہیں سکی۔ رضاکاروں کی جانب سے امدادی آپریشن چوبیس گھنے بعد بھی جاری ہے۔

مقامی آبادی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن انتہائی سست رفتاری سے کیا گیا ہے اور رضاکار اور شہری حکومت کے اہلکار تاخیر سے جائے حادثہ پر پہنچے تھے۔ سندھ کےگورنر ڈاکٹر عشرت العباد اور سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم جاری کیا ہے جبکہ کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے چیف کنٹرولر منظور قادر کا کہنا ہے کہ کہ کھجور بازار میں سات فٹ گلی میں غیر قانونی کھدائی کی گئی تھی جس وجہ سےیہ عمارت گری ہے۔

خیال رہے کہ یہ ماہِ رواں میں کراچی میں عمارت گرنے سے ہلاکتوں کا دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں اکیس جولائی کو ایک چار منزلہ زیرِ تعمیر عمارت کےگرنے سے کم از کم گیارہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔