لاہور: انارکلی بازار میں آتشزدگی سے 13 افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہAFP

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے مرکزی شہر لاہور میں ایک تجارتی عمارت میں آگ لگنے سے 13 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

لاہور کے ڈی سی او کیپٹن عثمان نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ یہ آگ پیر کی شام نئی انارکلی بازار میں واقع خالد پلازہ میں بظاہر شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی۔

ان کا کہنا تھا کہ آگ اس پلازے کی نچلی منزل پر واقع ان دکانوں میں لگی جو داخلی راستے پر واقع تھیں اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

امدادی ادارے ریسکیو 1122 کے ترجمان جام سجاد نے بی بی سی کی نامہ نگار شمائلہ جعفری سے بات کرتے ہوئے اس حادثے میں 13 ہلاکتوں کی تصدیق کی۔

انھوں نے بتایا کہ واقعے کے وقت چار منزلہ عمارت میں 20 سے 25 لوگ موجود تھے۔

ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ ہے امدادی کارروائیوں کا آغاز آگ لگنے کے فوراً بعد شروع کر دیا گیا تھا تاہم انارکلی بازار میں گلیاں تنگ ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائیاں سست رہیں اور زیادہ تر ہلاکتیں دم گھٹنے کے باعث ہوئیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون بھی شامل ہیں۔

ادھر وزیراعلیٰ پنجاب نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری رپورٹ طلب کرلی ہے جبکہ وزیراعظم نواز شریف نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

گلیاں تنگ ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائیاں سست رہیں اور زیادہ تر ہلاکتیں دم گھٹنے کے باعث ہوئیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنگلیاں تنگ ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائیاں سست رہیں اور زیادہ تر ہلاکتیں دم گھٹنے کے باعث ہوئیں۔

حکومتِ پنجاب کے ترجمان کے مطابق اس واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ حکام اور تاجران کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جبکہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے ہلاک شدگان کے لواحقین کے لیے پانچ پانچ لاکھ روپے امداد کا اعلان بھی کیا ہے۔

خیال رہے کہ یہ دو دن میں پاکستان میں تجارتی عمارتوں میں آتشزدگی کا دوسرا واقعہ ہے۔

اس سے قبل اتوار کو کراچی کی ٹمبر مارکیٹ میں بھی آگ لگنے سے درجنوں دکانیں جل کر تباہ ہوگئی تھیں۔

ماضی میں بھی پاکستان میں کراچی اور لاہور کے علاوہ راولپنڈی میں بھی شاپنگ پلازوں میں آتشزدگی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں جن میں درجنوں افراد ہلاک بھی ہوئے تاہم ان واقعات کی تحقیقاتی رپورٹیں کبھی بھی منظر عام پر نہیں آئیں۔

پاکستان میں آتشزدگی کے ایک بدترین حادثے میں کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں واقع علی انٹرپرائز نامی فیکٹری میں گیارہ ستمبر 2012 کو آگ لگنے سے 259 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اس واقعہ میں جھلس جانے کی وجہ سے کئی لاشوں کی شناخت نہیں ہوسکی تھی، بالآخر ہائی کورٹ کے حکم پر 17 میتوں کی اجتماعی تدفین کردی گئی تھی۔