سانحہ بلدیہ کے دو سال گزر گئے لیکن تفتیش نامکمل

متاثرہ فیکٹری کے مالکان کو گرفتاری کے بعد ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنمتاثرہ فیکٹری کے مالکان کو گرفتاری کے بعد ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی میں بلدیہ فیکٹری واقعے کی تفتیش دو سال بعد بھی مکمل نہیں ہو سکی اور نہ ہی فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

اس واقعے میں250 سے زائد مزدور جھلس کر ہلاک ہوگئے تھے جن میں سے12 کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مقبول باقر اور جسٹس شاہنواز طارق پر مشتمل ڈویژن بینچ کے روبرو بدھ کو بلدیہ فیکٹری واقعے کی سماعت ہوئی۔

سماعت میں وفاقی حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ 225 متاثرین کے لواحقین کو فی کس پانچ لاکھ روپے معاوضے کی ادائیگی کے لیے 12 کروڑ جاری کردیے گئے ہیں۔

متاثرین اور مزدور تنظیموں کے وکلا نے مقدمے کے تفتیشی افسر پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ تفتیشی افسر کی سست روی کی وجہ سے دو سال گذرنے کے باوجود فرد جرم بھی عائد نہیں ہوسکی ہے۔ چیف جسٹس نے کراچی کے ایڈیشنل آئی جی غلام قادر تھیبو کو حکم جاری کیا کہ مقدمے کی تفتیش کسی سینیئر پولیس افسر کے حوالے کی جائے تاکہ تفتیش میں پیش رفت ہو۔

پولیس نے متاثرہ علی انٹرپرائز نامی فیکٹری کے مالکان شاہد بھائیلہ، ارشد بھائیلہ اور منیجر عزیز کو گرفتار کیا تھا جنہیں چند ماہ بعد ضمانت پر رہا کردیا گیا۔ بعد میں تفیشی افسر نے مقدمے سے قتل عمد کی دفعہ خارج کرنے کی بھی گزارش کردی تھی۔

بلدیہ ٹاؤن میں واقع علی انٹرپرائز نامی فیکٹری میں گیارہ ستمبر 2012 کو آتش زدگی کے واقعے میں 259 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے، جھلس جانے کی وجہ سے کئی لاشوں کی شناخت نہیں ہوسکی تھی، بالآخر ہائی کورٹ کے حکم پر 17 میتوں کی اجتماعی تدفین کردی گئی۔

ان میں سے کئی متاثرین کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونے حاصل کیے گئے لیکن رپورٹ فراہم نہیں کی گئی جس وجہ سے یہ خاندان حکومت کے اعلانیہ معاوضے اور امداد سے بھی محروم رہے۔

یاد رہے کہ ماضی میں بھی کراچی میں ہونے والے آتشزدگی کے واقعات کی تحقیقات تو کی گئیں مگر کسی بھی واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے نہیں لائی گئیں۔