پنجاب یونیورسٹی سےحزب التحریر کے رہنماگرفتار

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شمائلہ جعفری
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستان کے شہر لاہور میں پنجاب یونیورسٹی کے کیمپس سے پولیس نے کالعدم تنظیم حزب التحریر کے صوبہ پنجاب میں صدر کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ شہریار نجم نامی اس شخص سے نفرت انگیز مواد بھی برآمد ہوا ہے۔
شہریار نجم تعلیم کے لحاظ سے سول انجینیئر ہیں اور ایک نجی کمپنی میں مارکیٹنگ ایگزیکٹو ہیں اور ان کے والدین فوج سے وابستہ رہے ہیں جبکہ ان کا تعلق حیدرآباد سے بتایا جاتا ہے۔
<link type="page"><caption> اسلام آباد میں حزب التحریر کی موجودگی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/03/120315_hizb_tehrir_arrest_tk" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> خزب التحریر کا آئی ایس آئی پر مقدمہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/07/120720_hizb_tehrir_fir_rwa" platform="highweb"/></link>
پولیس کے مطابق انھیں چند ہفتے پہلے یہ اطلاع ملی تھی کہ شہریا ر نجم اکثر پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹلز میں واقعہ کینٹین آتے ہیں اور یہاں طلبہ کو جہاد اور ملک دشمن سرگرمیوں کے لیے اکساتے ہیں۔ جس پر انھوں نے شہریار کی نگرانی شروع کی۔
ایس پی اقبال ٹاون ڈاکٹر محمد اقبال نے بتایا ’کالعدم تنظیموں کا اکثر یہی طریقہ کار ہے کہ ان کے کارکن تعلیمی اداروں میں رابطے بڑھاتے ہیں۔ نوجوانوں سے بات چیت اور بحث و مباحثے کے دوران ہم خیال افراد کا پتہ چلاتے ہیں اور پھر انھیں اپنی غیرقانونی اور ملک دشمن سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ شہریار نجم بھی یہی کر رہے تھے۔‘
پولیس کے مطابق شہریار نجم کو رات پنجاب یونیورسٹی بوائز ہاسٹل کے کیفےٹیریا سے گرفتار کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان سے کالعدم تنظیم حزب التحریر کا لٹریچر بھی برآمد ہوا ہے اور ان کے لیپ ٹاپ میں بھی ایسا مواد موجود تھا اور انھوں نے ابتدائی تحقیقات میں اس بات کا اعتراف بھی کیا ہے کہ وہ حزب التحریر سے منسلک ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
خیال رہے کہ حزب التحریر ایک بین الاقوامی تنظیم ہے جو دنیا میں خلافت کا ایسا نظام قائم کرنے کی حامی ہے جو شریعی قوانین پر مبنی ہو۔ امریکہ یورپ وسط ایشیائی ریاستوں اور عرب ملکوں میں حزب التحریر متحرک ہے۔ سنہ 2004 میں سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں پاکستان میں اس تنظیم کو غیرقانونی قرارد دے کر اس پر پابندی عائد کر دی گئی تھی اور تنظیم تاحال کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل ہے۔
تاہم دہشت گردی پر نظر رکھنے والے کئی تجزیہ کاروں کا یہ خیال ہے کہ پاکستان کی فوج میں کچھ ایسے عناصر ہیں جو نظریاتی طور پر اس تنظیم سے ہمددری رکھتے ہیں۔
لاہور کے تھانہ مسلم ٹاون میں شہریار نجم کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے۔ ایف آئی آر میں پولیس خود ہی مدعی بنی ہے۔ اور اس میں دہشت گردی، ریاست کے خلاف مجرمانہ سازش اور ملک دشمنی کی دفعات لگائی گئی ہیں۔
ایس پی ڈاکٹر محمد اقبال کہتے ہیں ’ملزم کو جلد عدالت میں پیش کر دیا جائے گا اور اس کا ریمانڈ لیا جائے گا تاکہ اس سے مزید تفتیش ہو سکے۔ہم یونیورسٹی میں کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں کے حوالے سے کافی محتاط ہیں۔ شہریار کی گرفتاری بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ہمیں یونیورسٹی میں اس کی سرگرمیوں کی اطلاع چند ہفتے سے تھی اور نگرانی کے بعد اس کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔‘
پنجاب یونیورسٹی کے ترجمان خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ شہریار نجم نہ تو جامعہ پنجاب کے طالب علم ہیں اور نہ ہی یہاں کسی ہوسٹل کے رہائشی۔
’ہم یونیورسٹی میں غیرقانونی سرگرمیوں سے متعلق عدم برداشت کی پالیسی رکھتے ہیں اور اس حوالے سے بہت چوکس ہیں۔ ہم یونیورسٹی کیمپس کو کسی ایسی سرگرمی کے لیے استمعال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے جو ملک کے مفاد کے خلاف ہو یا قانون کے دائرے سے باہر ہو۔ اس سلسلے میں ہم نے ہمیشہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کیا ہے اور آئندہ بھی کریں گے۔‘
یاد رہے کہ ماضی میں بھی پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹلز سے دہشت گردی سمیت مختلف جرائم میں ملوث افراد گرفتار ہو چکے ہیں۔







