آئی ایس آئی، ایم آئی کے سربراہان پر اغواء کا مقدمہ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پنجاب پولیس نے کالعدم تنظیم حزب التحریر کے ترجمان کے اغواء کے الزام میں فوج کی خفیہ ایجنسیوں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے سربراہان سمیت چند اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
یہ مقدمہ تنظیم کے پاکستان میں ترجمان نوید بٹ کی اہلیہ کی درخواست پر لاہور کے تھانہ لیاقت آباد میں چھبیس جون کو درج کرایا گیا تاہم مقدمے کے اندراج کے تین ہفتے بعد بھی کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔
پولیس نے اس مقدمے کی ایف آئی آر تو سیل کر دی ہے تاہم ایف آئی آر کے اندراج کے چند روز بعد ہی علاقے کے سپرنٹنڈنٹ پولیس کو تبدیل کیا جا چکا ہے۔
بین الاقوامی تنظیم حزب التحریر موجودہ جمہوری نظام کو ختم کر کے مسلمان ممالک میں خلافت نافذ کرنا چاہتی ہے اور پاکستان سمیت مختلف ملکوں میں کالعدم قرار دی جا چکی ہے۔
نوید بٹ کی اہلیہ سعدیہ راحت نے جو ایک وکیل ہیں، مقدمے میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل، لاہور میں تنظیم کے ڈپٹی ڈائریکٹر، ملٹری انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر جنرل اور لاہور میں ایجنسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر کو نامزد کیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق گیارہ مئی کو نوید بٹ اپنے بچوں کو سکول سے لے کر لوٹے ہی تھے کہ ان کےگھر کے باہر پہلے سے موجود آئی ایس آئی اور ایم آئی کے دس سے پندرہ مسلح اہلکاروں نے ایک مشترکہ آپریشن کرتے ہوئے انہیں گاڑی سے باہر نکالا اور زبردستی گھسیٹتے ہوئے سرکاری گاڑی میں ڈال کر لے گئے۔
درخواست دہندہ کے مطابق خفیہ ایجنسیوں کے چند اہلکاروں نے وردیاں پہن رکھی تھیں جن پر آئی ایس آئی کے بیج لگے تھے جبکہ چند اہلکار سادہ کپڑوں میں ملبوس تھے۔
نامہ نگار علی سلمان کے مطابق سعدیہ راحت کے بقول ان کے خاوند کو زبردستی لے جانے کا منظر ان کے بچوں اور دیگر ہمسائیوں نے بھی دیکھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے بتایا کہ اس موقع پر نوید بٹ نے ان اہلکاروں سے پوچھا کہ وہ کون ہیں اور انہیں کیوں گرفتار کر رہے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ ایجنسیوں کے اہلکار ہیں۔
سعدیہ راحت نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ نوید بٹ کو اس مقدمے میں نامزد ملزمان یعنی آئی ایس آئی اور ایم آئی کے سربراہان نے اپنے اہلکاروں کے ذریعے اغوا کروایا ہے۔
درخواست دہندہ نے کہا کہ ان کے خاوند کے خلاف کسی بھی قسم کے مقدمے کے اندراج کی اطلاع نہیں ہے۔
نوید بٹ کی اہلیہ نے دعویٰ کیا کہ ان کے شوہر کو ان ایجنسیوں کے اہلکاروں نے اپنی غیر قانونی حراست میں رکھا ہوا ہے اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے شوہر ایک شریف شہری اور الیکٹریکل انجینئر ہیں اور اس سے پہلے بھی انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی جاتی رہی تاہم وہ خوش قسمتی سے بچتے رہے۔
سعدیہ راحت کا کہنا تھا کہ انہیں ٹیلی فون پر دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ اگر انہوں نے خاموشی اختیار نہ کی تو وہ ان کے خاوند کو قتل کر کے لاش کہیں پھینک دیں گے اور انہیں اور ان کے بچوں کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔
انہوں نے کہا ان حالات میں انہیں، ان کے بچوں اور خاوند نوید بٹ کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
سعدیہ راحت نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ لاہور کے تھانہ لیاقت آباد میں مقدمہ لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر درج کیا گیا تھا اور خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے مبینہ طور پر دباؤ ڈال کر اس مقدمہ کے اندراج کی خبر کو مقامی میڈیا میں نشر ہونے سے رکوا دیا ہے۔
سعدیہ راحت کے وکیل عمر حیات سندھو نے کہا کہ عدالت نےگذشتہ سماعت پر پولیس افسروں سے باز پرس کی تھی اور ملزموں کو گرفتار کرنے کی ہدایت کی تھی۔
ادھر اس مقدمہ کے اندراج کے بعد علاقے کے سپرنٹنڈنٹ پولیس اطہر وحید کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔
اطہر وحید وہی پولیس افسر ہیں جنہوں نے عدلیہ بحالی تحریک کے دوران گوجرانوالہ میں مظاہرین پر تشدد اور ان کی گرفتاریوں کا حکم ماننے سے انکار کردیا تھا۔گذشتہ مہینے لاہور میں ان کی اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے محافظین سے بھی جھڑپ ہوئی تھی۔
خیال رہے کہ پاکستان میں لاپتہ افراد کے مقدمات سپریم کورٹ سمیت مختلف عدالتوں میں زیرسماعت ہیں اور ایسے کئی افراد کی لاشیں مل چکی ہیں جن کے بارے میں ان کے اہلخانہ کا خیال تھا کہ وہ کسی خفیہ سرکاری ادارے کی تحویل میں ہیں۔







