کالعدم حزب التحریر کے مرکز پر چھاپہ، گرفتاریاں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں حکام نے، کالعدم تنظیم حزب التحریر کے کم سے کم پندرہ اراکین کو گرفتار کیا ہے۔
یہ گرفتاریاں جمعرات کی شب پولیس کی جانب سے آئی نائن سیکٹر کی ایک رہائش گاہ پر چھاپے کے دوران عمل میں آئیں۔
ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق، پولیس زرائع نے چھاپے کی تصدیق کی ہے۔ ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ گرفتار کیے گئے افراد کو مقامی تھانے میں نہیں رکھا گیا۔
’انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ چھاپہ اس لیے مارا گیا کہ وہاں حزب التحریر کا اجلاس ہو رہا تھا جو ایک کالعدم تنظیم ہے۔‘
ادھر حزب التحریر کے ترجمان نوید بٹ نے، ٹیلی فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حکام کی کارروائی کی مزمت کی ہے۔
’رہائش گاہ میں تنظیم کا اجلاس نہیں بلکہ دینی درس ہو رہا تھا۔ پولیس نے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا ہے۔‘
حزب التحریر پاکستان میں کالعدم جماعت ہے اور آجکل پاکستانی فوج بھی، تنظیم سے تعلق رکھنے اور فوج پر حملوں کی سازش کے الزامات کے تحت ایک افسر بریگیڈئر علی خان کا کورٹ مارشل کر رہی ہے۔
نوید بٹ کے مطابق تنظیم پر پابندی کا معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکام گرفتار کیے گئے نوجوانوں کے قصور یا ان کے متعلق معلومات دینے سے گریزاں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا ’کارروائی کرنے والے اہلکار پولیس کی وردی اور سادہ کپڑوں میں ملبوس تھے اور کم سے کم پندرہ نوجوانوں کو گرفتار کر کے لے گئے۔‘
انہوں نے الزام عائد کیا کہ خفیہ ادارے اکثر اوقات اُن کی تنظیم کے اراکین کو ماورائے عدالت حراست میں رکھتے ہیں اور تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔
ہمارے نامہ نگار ظہیرالدین بابر کے مطابق پاکستان کی دیگر کالعدم تنظیموں کے برعکس حزب التحریر کے ارکان میں شہری، پڑھے لکھے اور خوشحال لوگ شام ہیں۔
دارالحکومت اسلام آباد سمیت پاکستان کے بڑے شہروں میں اکثر اوقات حزب التحریر کے منشور پر مبنی پوسٹرز نظر آتے ہیں جن پر امریکہ اور مغرب کی مخالفت کے علاوہ اسلامی سربلندی کے لیے خلافت کے قیام جیسے کلمات درج ہوتے ہیں۔
یہ پوسٹرز اور سٹکرز، شہری آبادیوں میں کسی بھی دن، اچانک نظر آتے ہیں اور چند دن بعد ہٹا دیے جاتے ہیں۔ پابندی کے باوجود پاکستانی حکام حزب التحریر کی مبینہ طور پر غیر قانونی کارروائیوں پر مکمل قابو پانے میں ناکام رہے ہیں۔







