حزب التحریر ولایہ پاکستان

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
حزب التحریر پاکستان میں کالعدم تنظیموں میں سے شاید واحد تنظیم ہے جس پر پابندی کا اطلاق کرنے میں ریاست کے تمام ستون ایک پالیسی پر گامزن نظر آتے ہیں۔ اس کی وجہ شائد یہ ہے کہ اس تنظیم نے اپنی کارروائیوں کا محور پاکستانی مسلح افواج کو بنا رکھا ہے۔
عالمی سطح پر خلافت کے قیام کے کام کرنے والی اس تنظیم کی پاکستانی شاخ کا منشور بھی ملک میں اسلامی خلافت کا نظام رائج کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے حزب التحریر بظاہر عدم تشدد اور دعوت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
ماورائے آئین پالیسیوں کے باعث اس تنظیم کو پاکستان میں سنہ دو ہزار دو میں کالعدم قرار دے دیا گیا تھا۔ تنظیم کی جانب سے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا اور یہ مقدمہ تاحال زیر سماعت ہے۔
اس دوران جلسے جلوس منعقد کرنے اور اپنے پفلٹس وغیرہ تقسیم کرنے پر اس تنظیم کے چار سو سے زائد کارکن پچھلے پانچ برس میں گرفتار کیے جاچکے ہیں جن میں سے بیشتر کچھ عرصہ جیلوں میں گزار کر رہا بھی ہو چکے ہیں۔
اس تنظیم کے عملاً پاکستان میں شدت پسندی میں براہ راست ملوث ہونے کے شواہد ابھی تک پاکستانی ریاست کے پاس نہیں ہیں۔ اسی بنا پر دو برس پہلے تک یہ تنظیم پاکستانی اداروں کے لیے زیادہ تشویش کا باعث نہیں تھی۔ سنہ دو ہزار نو میں پاکستانی انٹیلی جنس نے دو پاکستانی فوجی افسروں کو گرفتار کیا جن کے بعض مشکوک لوگوں سے روابط کی تفتیش کے دوران پتہ چلا کہ یہ افسر حزب التحریر کے رکن بن چکے تھے۔
اس انکشاف نے پاکستانی فوج میں پہلی بار حزب التحریر کی موجودگی کا پتہ دیا۔
اس کے بعد مئی دو ہزار گیارہ میں پاکستانی فوج کے صدر دفاتر میں خدمات انجام دینے والے بریگیڈیر علی خان کو حراست میں لیا گیا اور پہلی بار پاکستانی فوج نے اعتراف کیا کہ حزب التحریر اس کے افسران کو ورغلانے میں بہت آگے نکل گئی ہے۔ اس کی تصدیق پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے ان الفاظ میں کی۔
”بریگیڈیر علی خان کے بارے میں ہمارے پاس ناقابل تردید ثبوت ہیں کہ ان کے حزب التحریر کے ساتھ روابط تھے۔ یہ کالعدم تنظیم ہے اور پاکستانی افواج کے افسران کو غیر آئینی اقدامات پر اکسانے کی کوشش کر رہی ہے۔”
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بریگیڈئیر علی کا ذکر کئے بغیر حزب التحریر کے ترجمان نوید بٹ بہت فخر سے یہ الزام قبول کرتے ہیں۔
”ہم عدم تشدد کے ذریعے پاکستان میں خلافت قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے ہم پاکستانی مسلح افواج کے درد مند افراد سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس نیک مقصد میں ہمارا ساتھ دیں۔ فوجی افسران کو بغاوت کے لیے اکسانا ہماری پالیسی کا حصہ ہے۔”







