’دہشت گردی کے واقعات میں 60 فیصد تک کمی‘

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان میں شدت پسندی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے خیبر پختونخوا کی پولیس کا کہنا ہے کہ صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں 60 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔
پشاور میں انسپکٹر جنرل پولیس کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ سال کے پہلے تین ماہ کی نسبت اس سال ان تین ماہ میں دہشت گردی کے واقعات میں بڑے حد تک کمی رہی۔
اس بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں 2015 کے پہلے تین ماہ میں دہشت گردی کے کل 60 واقعات پیش آئے ہیں جبکہ 2014 میں اس عرصے میں ایسے واقعات کی تعداد 140 تک تھی۔
اسی طرح صوبے میں جنوری سے مارچ تک اس سال کل 54 افراد دہشت گردی کے واقعات میں ہلاکت ہوئے ہیں جبکہ گذشتہ سال یہ تعداد 179 تھی۔
خیبر پختونخوا میں انسداد ہشت گردی کا محکمہ صوبے میں جاری پولیس اصلاحات کے سلسلے میں قائم کیا گیا تھا اور دہشت گردی کے خلاف ان کارروائیوں میں اس محکمے کو انٹیلیجنس بیورو کی مدد بھی حاصل ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2014 کے ابتدائی تین ماہ میں پانچ خودکش حملوں کے مقابلے میں اس سال ایک ہی خودکش حملہ ہوا اور یہ واقعہ جنوری کے مہینے میں پشاور کے رہائشی علاقے حیات آباد میں اہل تشیع کی مسجد میں پیش آیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حال ہی میں قائم ہوئے والی انسداد دہشت گردی کے محکمے نے اس حملے میں ملوث گروہ اور ان کے افراد کی نشاندہی بھی کر لی ہے۔
اس کے علاوہ پولیس کے بیان میں یہ کہا گیا ہے کہ سب سے بڑی کمی دیسی ساختہ بموں یعنی آئی ای ڈیز کے دھماکوں میں ہوئی ہے۔ گذشتہ سال تین ماہ میں ان دھماکوں کی تعداد 74 تھی جبکہ اس سال صرف 22 دھماکے ہوئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مبصرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری اس جنگ میں ہر سال ان واقعات کی نوعیت میں فرق آتا رہا ہے۔
صوبے میں 2009 میں دہشت گردی کے واقعات سب سے زیادہ پیش آئے اور یہ سلسلہ 2012 تک یونہی جاری رہا لیکن 2013 سے ان میں کمی واقع ہونا شروع ہوگئی تھی۔







