کوہاٹ: مسافر گاڑی پر بم حملہ، چھ افراد ہلاک

دھماکہ سڑک کے کنارے نصب دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے ہوا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشندھماکہ سڑک کے کنارے نصب دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے ہوا
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع کوہاٹ میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک مسافر گاڑی کے قریب ہونے والے بم دھماکے میں کم سے کم چھ افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق ہلاک والے افراد کا تعلق اہل تشیع سے ہے۔

پولیس کے مطابق یہ دھماکہ سنیچر کی صبح کوہاٹ شہر کے مصروف علاقے پشاور چوک میں ایک مسافر سوزوکی گاڑی کے قریب پیش آیا۔

کوہاٹ پولیس کے ضلعی سربراہ سلیم مروت نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک سوزورکی گاڑی نواحی علاقے استرزئی کی طرف جا رہی تھی کہ اس دوران وہاں سڑک کے کنارے نصب دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے زوردار دھماکہ ہوا۔

انھوں نے کہا کہ بارودی مواد سوزوکی گاڑی سے چند فرلانگ کے فاصلے پر پلاسٹک کے ایک بیگ میں چھپایا گیا تھا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکہ میں دو سوزوکی گاڑیاں مکمل طورپر تباہ ہوگئی ہیں۔

دھماکے کے بعد زخمیوں کو کوہاٹ کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد علاقے میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے اور جائے وقوعہ کے اردگرد واقع علاقے سے چند مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔

ان کے مطابق بظاہر لگتا ہے کہ دھماکےمیں پانچ کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ چند ماہ پہلے بھی کوہاٹ میں اسی پشاور چوک میں استرزئی جانے والی سوزوکی گاڑی کو بم دھماکے میں نشانہ بنایا گیا تھا جس میں متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ہلاک والے تمام افراد کا تعلق اہل تشیع مسلک سے بتایا گیا تھا۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ دو دن پہلے پشاور میں بھی کرم ایجنسی جانے والی مسافر وین کو بم دھماکے میں نشانہ بنایا گیا تھا جس میں سات افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

اس دھماکے میں ہلاک والے افراد کا تعلق بھی شیعہ مسلک سے بتایا گیا تھا۔ تاہم دونوں دھماکوں کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم کی طرف سے قبول نہیں کی گئی ہے۔