کوہاٹ: پولیس لائن کے قریب دھماکہ، 10 افراد ہلاک

پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکہ ٹائم بم سے کیا گیا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپولیس کا کہنا ہے کہ دھماکہ ٹائم بم سے کیا گیا
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پاکستان کے صوبہ خیبر کے ضلع کوہاٹ میں پولیس لائن کے قریب ہونے والے دھماکے میں کم سے کم 10 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوگئے ہیں۔

دھماکہ کوہاٹ میں پولیس لائن کے قریب واقع پشاور چوک پر ہوا۔

جس جگہ دھماکہ ہوا ہے وہ کوہاٹ کا مصروف ترین مقام ہے اور یہاں سے زیادہ تر گاڑیاں ہنگو جاتی ہیں۔

دھماکے کے وقت بھی مختلف علاقوں کو جانے والی گاڑیاں یہاں سے گزر رہی تھیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکہ ٹائم بم سے کیا گیا تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ حملے میں کسے نشانہ بنایا گیا۔

پولیس کے مطابق دھماکے میں زخمی اور ہلاک ہونے والوں کی لاشیں ڈسٹرکٹ ہسپتال پہنچا دی گئی ہیں۔

سکیورٹی فورسز نے دھماکے کی جگہ کو گھیرے میں لے لیا اور امدادی کارروائیاں اور تحقیقات شروع کر دی گئیں۔

کوہاٹ اور اس کے متصل ضلعے ہنگو کو شیعہ سنی کشیدگی کے سلسلے میں حساس علاقہ تصور کیا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنکوہاٹ اور اس کے متصل ضلعے ہنگو کو شیعہ سنی کشیدگی کے سلسلے میں حساس علاقہ تصور کیا جاتا ہے

سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق وزیرِاعظم نواز شریف نے واقعے کی مذمت کی ہے۔

خیال رہے کہ کوہاٹ اور اس کے متصل ضلع ہنگو کو شیعہ سنی کشیدگی کے سلسلے میں حساس علاقہ تصور کیا جاتا ہے۔

گذشتہ سال نومبر میں کوہاٹ شہر میں سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد پر ایک امام بارگاہ کے قریب فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے تھے۔ سنی مسلک کے مسلمانوں نے راولپنڈی میں دس محرم کو ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف جلوس نکالا تھا۔

نومبر میں فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھنے کے خطرے کے پیشِ نظر حکام نے ہنگو اور کوہاٹ کے مختلف علاقوں میں کچھ وقت کے لیے کرفیو نافذ کیا تھا جسے بعد میں ہٹا لیا گیا۔

خیال رہے کہ محرم الحرام سے پہلے خیبر پختونخوا میں جن چار اضلاع کو انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا ان میں کوہاٹ بھی شامل تھا۔

دیگر حساس اضلاع میں پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان اور ہنگو شامل تھے۔