’خودکش حملے کم ہوئے، ٹارگٹ کلنگ بڑھ گئی‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے شدت پسندی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت اور پولیس کا کہنا ہے کہ سنہ 2013 کے مقابلے میں رواں سال پرتشدد کارروائیوں میں جہاں مجموعی طور پر سات فیصد کمی آئی ہے وہیں خودکش حملوں کی تعداد میں 45 فیصد کمی ہوئی ہے۔
صوبائی پولیس کی کرائم ریکارڈ برانچ کے اعداوشمار کے مطابق گذشتہ برس صوبے میں دہشت گردی کے 459 واقعات کے مقابلے میں اس سال اب تک 438 واقعات رونما ہوئے ہیں۔
2013 میں قبائلی علاقوں سے جڑے صوبے میں 18 خودکش حملے ہوئے جبکہ اس سال یہ تعداد دس ہے۔ اس کے علاوہ دھماکہ خیز مواد سے لدی گاڑیوں کے حملوں میں استعمال کی شرح بھی 50 فیصد کم ہوئی ہے اور اس برس ایسے حملوں کی تعداد تین رہی ہے۔
اس کے علاوہ پولیس کے مطابق دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد سے حملوں میں بھی 25 فیصد کمی ہوئی جو 20 سے کم ہو کر 14 رہ گئے ہیں۔
لیکن پولیس کی روایتی زبان میں کہا جائے تو ’سب اچھا‘ بھی نہیں ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سال صوبے میں ہدف بنا کر ہلاکتوں یا ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں قابل تشویش اضافہ دیکھا گیا ہے۔
گذشتہ برس ایسے حملوں میں 113 افراد مارے گئے اور اس برس یہ تعداد بڑھ کر 131 ہوگئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
پشاور اور وادیِ سوات دو ایسے علاقے ہیں جہاں ان حملوں میں زیادہ اضافہ ہوا ہے اور پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان میں زیادہ تر کا ہدف سکیورٹی اہلکار بنے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے علاوہ صوبے میں عام تاثر یہ ہے کہ اغوا برائے تاوان کے واقعات بڑھ رہے ہیں، تاہم صوبائی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ جرم گذشتہ برس کی سطح پر برقرار ہے۔
پولیس کے مطابق اس برس تقریباً 200 اغوا کار گرفتار ہوئے جبکہ 80 مغویوں کو بازیاب کروایا گیا ہے۔
خیبر پختوا پولیس کے اہلکاروں کے مطابق پولیس فورس کا مورال اور کارکردگی بہتر ہوئی ہے اور دہشت گردی کے واقعات میں کمی کی وجہ ان کی ’پرو ایکٹو‘ حکمت عملی ہے۔
ان کا دعویٰ ہے کہ اس عرصے کے دوران پولیس نے دہشت گردی کے سو سے زائد حملے ناکام بنائے ہیں اور ڈیڑھ سو سے زائد مشتبہ شدت پسند گرفتار کیے ہیں جبکہ 26 دہشت گردوں کو مقابلوں میں ہلاک کرنے کے علاوہ 27 کو عدالتوں سے سزائیں دلوانے میں کامیابی ہوئی ہے۔
تاہم حکام تسلیم کرتے ہیں کہ اس سال بھتہ خوری کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور رواں سال تقریباً 300 ایسے واقعات رجسٹر ہوئے ہیں۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ پانچ برس میں بھتہ خوری کے واقعات کو جان بوجھ کر کم دکھایا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAP
خیال رہے کہ خیبر پختونخوا کے پولیس سربراہ ناصر درّانی نے ایک بیان میں بھتہ خوری کو صوبے کا ایک بڑا مسئلہ قرار دیا اور اسی لیے انھوں نے ہر ڈویژنل ہیڈ کوارٹر میں موبائل فون کے فورینسک سیل قائم کیے ہیں۔ انھوں نے اس بارے میں تمام ایس ایس پیز کو خصوصی توجہ دینے کی ہدایت بھی کی ہے۔
مبصرین کے خیال میں خیبر پختونخوا میں جرائم اور دہشت گردی میں اس کمی کی وجہ پولیس کی کامیاب حکمت عملی کی بجائے شدت پسندوں کی طریقۂ کار میں تبدیلی کا عمل دخل زیادہ ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ شدت پسندوں کے اندرونی مسائل اور فوجی کارروائیوں کی وجہ سے اس وقت ان کا ’بیک فٹ‘ پر ہونا بھی اس کی وجہ ہو سکتا ہے۔
پاکستانی فوج اس وقت شمالی وزیرستان اور خیبر کے علاوہ جنوبی وزیرستان میں بھی اپنی پوزیشنیں مستحکم کرنے میں مصروف ہے لیکن تشدد میں کمی کی بڑی وجہ انھی کارروائیوں کو مانا جا رہا ہے۔
اس سال مجموعی طور پر ان پرتشدد کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے عام شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے۔
گذشتہ برس میں چھ سو سے زائد ایسی ہلاکتوں کی تعداد کم ہو کر تقریباً تین سو تک آ پہنچی ہے۔ حکام کے مطابق یہ تعداد سنہ 2008 کے بعد سے کم ترین سطح ہے۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں کمی پر خوشی کا اظہار قبل از وقت ثابت ہو سکتا ہے اور جب تک قبائلی علاقوں خصوصا خیبر ایجنسی میں شدت پسندی کا مکمل خاتمہ نہیں ہوتا، یہ کمی عارضی ثابت ہو سکتی ہے۔







