پشاور: مسافر وین میں دھماکے سے سات افراد ہلاک

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنعینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ کرم ایجنسی جانے والے مسافر وین میں بم دھماکے کے نتیجے میں کم سے کم سات افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ دھماکہ جمعرات کو کوہاٹ روڈ پر تھانہ بڈھ بیر کی حدود میں پیش آیا۔

بڈھ بیر پولیس سٹیشن کے انچارج فضل واحد نے بی بی سی کو بتایا کہ مسافروں سے بھری ہائی ایس گاڑی کوہاٹ اڈے سے کرم ایجنسی جا رہی تھی کہ بازید خیل سٹاپ کے قریب گاڑی رکتے ہی اس میں زور دار دھماکہ ہوا۔

انھوں نے کہا کہ دھماکے میں کم سے کم سات مسافر ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے۔ زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور منتقل کر دیا گیا ہے تاہم اس واقعے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔

پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر یہ اطلاع آئی تھی کہ دھماکہ گیس سلنڈر پھٹنے سے ہوا ہے، تاہم بعد میں بم ڈسپوزل یونٹ نے تصدیق کی کہ دھماکہ بم پھٹنے سے ہوا جس میں پانچ کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا ہے۔

ادھر پشاور کے علاقے خزانہ میں پولیس کے مطابق بم ڈسپوزل یونٹ نے دو کلوگرام کے تین بموں کو ناکارہ بنا دیا ہے۔ آئی جی پولیس کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تینوں بم بجلی کے کھمبوں کے ساتھ نصب کیے گئے تھے۔

خیال رہے کہ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران پشاور میں یہ اپنی نوعیت کا دوسرا دھماکہ ہے۔

اس سے پہلے کینٹ کے حدود میں ایف سی کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں ایف سی اہلکاروں سمیت پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری غیر قانونی شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کر لی تھی۔