خیبر پختونخوا میں ’ایمرجنسی رسپانس‘ سکواڈ قیام

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی رسپانس سکواڈ کے نام سے پولیس کی ایک اور سکیورٹی فورس قائم کر دی گئی ہے اور ابتدا میں اس فورس نے پشاور میں کام شروع کر دیا ہے۔
پشاور شہر میں کالے رنگ کی گاڑیوں پر ایک مختلف یونیفارم کے ساتھ یہ اہلکار ان دنوں پشاور کے مختف علاقوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
سینیر سپرنٹنڈنٹ پولیس پشاور ڈاکٹر میاں سعید نے بی بی سی کو بتایا کہ ایمرجنسی رسپانس سکواڈ کا مقصد کسی بھی جرم کے موقع پر فوری طور پر پہنچنا ہوگا اور اس کے لیے اس سکواڈ میں شامل اہلکاروں کو بھاری اسلحہ اور بلٹ پروف گاڑیاں دی گئی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر اس سکواڈ کو چار زونز میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر زون میں آٹھ اہلکار موجود ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر زون میں بارہ پوائنٹ ایسے منتخب کیے گئے ہیں جہاں یہ موجود رہیں گے۔
ایک زون کے سکواڈ میں گاڑی اور دو موٹر سائیکل سوار اہلکار ہوں گے جو موقع واردات پر جلد سے جلد پہنچنے کی کوشش کریں گے۔
یہ اہلکار معمول کی چیکنگ یا پولیس کی دیگر ذمہ داریوں سے مبرا ہوں گے اور ان کو کسی بھی ایمرجنسی کی صورتحال پر تعینات کیا جائے گا۔
ڈاکٹر میاں سعید نے بتایا کہ یہ فورس روایتی پولیس سے مختلف ہوگی اور یہ اہلکار کسی تھانے یا کسی ڈویژن کی سطح پر روایتی پولیس کی طرح کسی کو جواب دے نہیں ہوں گے بلکہ یہ براہ راست ایس ایس پی آپریشن کے ماتحت ہوں گے اور وہ ہی انھیں احکامات جاری کریں گے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس وقت خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں فوج کے علاوہ فرنٹیئر کور یعنی نیم فوجی دستے اور پھر پولیس اور اس کے زیر انتظام فرنٹیئر کانسٹبلری، ایلیٹ فورس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے اہلکار اپنے اپنے علاقوں میں اپنے طور پر نظر آتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حالیہ دنوں میں سیکیورٹی اداروں پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے لیکن اس کے باوجود دہشت گردی کے علاوہ دیگر جرائم معمول سے ہو رہے ہیں۔







