پشاور کے مضافات سے تین لاشیں برآمد، شناخت کا عمل جاری

پولیس افسر نے کہا کہ مرنے والے افراد کی عمریں 25 سے 30 سال کے لک بھگ بتائی جاتی ہے اور ان کی داڑیاں بھی ہیں

،تصویر کا ذریعہb

،تصویر کا کیپشنپولیس افسر نے کہا کہ مرنے والے افراد کی عمریں 25 سے 30 سال کے لک بھگ بتائی جاتی ہے اور ان کی داڑیاں بھی ہیں
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ تین نامعلوم افراد کی لاشیں ملی ہیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ شدت پسند ہیں۔

پشاور کے ایس پی رورل شاکر بنگش نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ لاشیں شہر کے مضافاتی علاقے متنی میں قبائلی علاقے کے سرحد کے قریب واقع ایک برساتی نالے سے ملی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تینوں افراد کو سر اور سینے میں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔

پولیس افسر نے کہا کہ مرنے والے افراد کی عمریں 25 سے 30 سال کے لک بھگ بتائی جاتی ہے اور ان کی داڑیاں بھی ہیں۔ ان کے مطابق پولیس نے تینوں لاشیں قبضے میں لے کر متنی پولیس سٹیشن منتقل کردی ہیں جہاں ان کی شناخت کی جارہی ہے۔

پولیس افسر نے مزید بتایا کہ مرنے والے افراد کے چہروں اور لباس سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وہ شدت پسند ہیں تاہم اس حوالے سے تحقیقات کی جارہی ہے۔

خیال رہے کہ پشاور کے مضافاتی علاقے قبائلی علاقوں خیبر اور ایف آر پشاور سے ملے ہوئے ہیں جہاں اس سے پہلے بھی سڑک کے کناروں سے لاشیں ملنے کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

اس سے قبل پشاور اور نوشہر میں بھی بوری بند لاشیں ملنے کے کئی واقعات پیش آچکے ہیں۔ پشاور میں ایک وقت میں یہ واقعات اتنے زیادہ ہوگئے تھے کہ پشاور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس دوست محمد خان نے اس سلسلے میں ازخود نوٹس بھی لیا تھا جس کے بعد بوریوں میں بند لاشوں کے واقعات کم ہوگئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق پشاور میں بوری میں بند بیشتر لاشیں عسکریت پسندوں کی تھیں۔

اس کے علاوہ پشاور کے قریب واقع مہمند ایجنسی میں بھی کچھ عرصہ سے شدت پسندوں کے لاشیں ملنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اکثر اوقات یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ پشاور یا قبائلی علاقوں میں جب بھی دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ رونما ہوتا ہے تو اس کے دوسرے دن مختلف علاقوں سے شدت پسندوں کے لاشیں ملتی رہی ہیں۔