اوکے میگزین کے پاکستان ایڈیشن کا آغاز

- مصنف, حسن کاظمی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
دنیا کے مقبول ترین جریدوں میں سے ایک ’اوکے میگزین‘ کے پاکستان ایڈیشن کو سنیچر کی شب کراچی میں باقاعدہ طور پر متعارف کروایا گیا۔
یہ جریدہ یکم اپریل سے ہرماہ دستیاب ہوگا۔ اس موقع پر پہلے شمارے کے سرورق کی رونمائی کی گئی جس پر پاکستان کی مقتول سابق وزیرِاعظم بےنظیر بھٹو کی تصویر تھی۔
اوکے میگزین کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعے وہ پاکستان کی ایک روشن اور خوشگوار شبہیہ دنیا کے سامنے پیش کریں گے۔
<link type="page"><caption> ’ہیلو‘ میگزین اب پاکستان میں</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/04/120404_hello_magazine_pakistan_sa.shtml" platform="highweb"/></link>
اس موقع پر اوکے میگزین کی پبلشر سحر پراچہ کا کہنا تھا کہ یہ میگزین دنیا بھر میں انتہائی مقبول ہے اور جس کے عالمی سطح پر بیس سے زائد ایڈیشنز شائع کیے جاتے ہیں جو تقریباً پانچ کروڑ افراد پڑھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ فیشن، سلیبریٹیز اور جدید طرزِ زندگی کا احاطہ کرنے کے ساتھ ساتھ وہ ان افراد کی زندگیاں بھی سامنے لائیں گے جو اپنی زندگیاں خطرے میں ڈال کر اس ملک اور قوم کی خدمت کر رہے ہیں۔

میگزین کی ایڈیٹر آمنہ حیدر عیسانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہر روز ہمیں بری خبریں ہی سننے کو ملتی ہیں، شہ سرخیوں میں ہرطرف دہشت ہی ہوتی ہے۔ ’ہمارے بچے جب پڑھنے جاتے ہیں تو ہمیں ان کی فکر لاحق رہتی ہے۔ تاہم پاکستان میں کئی دوسرے رنگ بھی ہیں۔ اوکے میگزین کے ذریعے وہ پاکستان کی رنگارنگ ثقافت کی مختلف جہتوں کو سامنے لاتے ہوئے مختلف شعبہ جات میں کارہائے نمایاں انجام دینے والے افراد کو نمایاں کریں گے جو عموماَ سامنے نہیں آتے۔‘
اس میگزین کا ادارتی عملہ صرف خواتین ہی پر مشتمل ہے، جن کا کہنا ہے کہ یہ میگزین صرف چند نامور اور خوبصورت افراد کی زندگیوں تک ہی محدود نہیں رہے گا بلکہ پاکستان کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لکھاریوں، آرٹسٹ اور دیگر افراد کا بھی احاطہ کرے گا۔ اس تقریب کی میزبانی کے فرائض عائشہ عمر انجام دیے جن کے بے باک اور بےتکلف انداز کوبہت سراہا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس میگزین کی قیمت پاکستان پانچ سو روپے رکھی گئی ہے اور یہ ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو دستیاب ہوگا۔
یاد رہے کہ دوسال پہلے دنیا کا ایک اور معروف میگزین ہیلو کا بھی پاکستان ایڈیشن شروع کیا گیا تھا۔







