ساڑھی پینٹ شرٹ سے نہ ہاری

بھارت میں ساڑھی پہننے کا رواج جو کم ہو رہا تھا اب نوجوان لڑکیوں میں پھر سے مقبول ہو رہا ہے
،تصویر کا کیپشنبھارت میں ساڑھی پہننے کا رواج جو کم ہو رہا تھا اب نوجوان لڑکیوں میں پھر سے مقبول ہو رہا ہے
    • مصنف, شلپا کنّن
    • عہدہ, بی بی نیوز، دہلی

انڈیا میں تقریباً ہر خاتون کی الماری میں کم از کم ایک ساڑھی تو ضرور پڑی ہوگی، چاہے وہ قیمتی ریشم کی ہو یا عام سُوتی کپڑے کی۔

ایسا لگتا ہے کہ جیسے گذشتہ کچھ برسوں میں بھارت کے شہروں میں ساڑھی اپنی اہمیت کھو رہی ہے اور عورتیں مغربی لباس کو زیادہ ترجیح دے رہی ہیں۔

پچھلے پورے سال کے دوران میں نے خود ساڑھی صرف دو مرتبہ پہنی۔ اس کے باوجود میں کہہ سکتی ہوں کہ اپنی سہیلیوں کے مقابلے میں میں نے زیادہ مرتبہ ہی پہنی۔ لگتا ہے کہ اب ساڑھی روز مرہ کا پہناوا نہیں رہی اور خواتین صرف شادی بیاہ اور دوسری روایتی تہواروں پر ہی اسے پہنے نظر آتی ہیں۔

ایسا بھی نہیں کہ آپ روز مرہ کام کے دوران ساڑھی نہیں پہن سکتے۔ میری والدہ ہر روز ساڑھی پہنتی ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ وہ تو ساڑھی میں ہمالیہ کے پہاڑوں میں ٹریکنگ سمیت راجستھان میں اونٹ کی سواری اور کیرالہ میں کشتی رانی بھی کر چکی ہیں۔

امی کے پاس پانچ سو سے زیادہ ساڑھیاں ہیں اور وہ اکثر مجھے کہتی ہیں کہ میں ان کی طرح ساڑھی پہنے ہوئے ہر کام کر کے دکھاؤں۔

چابرا555 نامی روایتی ساڑھی کی ایک دوکان جنوبی دہلی کے بازار کے بیچوں بیچ واقع ہے۔ دن کے وقت یہ گاہکوں سے کچھا کھچ بھری پڑی ہے۔

ایک ہونے والی دلہن اپنی والدہ اور سہیلیوں کے جھرمٹ میں شادی کا جوڑا خرید رہی ہے۔ دلہن اپنا جوڑا دیکھنے میں مصروف ہے اور اس کی سہیلیاں روایتی لال اور نارنجی ساڑھیاں دیکھ رہی ہیں۔

بھارت میں ساڑھی سینکڑوں طریقوں سے باندھی جاتی ہے۔ ہر برادری، علاقے اور نسل نے اسے مختلف انداز میں اپنایا ہے۔

حنا ملہوترا کا خاندان اس کاروبار میں دہائیوں سے ہے۔ ان کے دادا نے پرانی دہلی کے چاندنی چوک میں ایک چھوٹی سی دوکان سے کاروبار شروع کیا۔ اور اب ملک بھر میں ان کے 50 شو روم ہیں۔

حنا ملہوترا کہتی ہیں کہ ساڑھی دوبارہ سٹائل کا حصہ بن رہی ہے۔

’ہم چار نسلوں سے یہ کام کر رہے ہیں، ہم اس کے بارے میں سب کچھ جانتے ہیں۔ لیکن اب کچھ حیران کن تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔‘

حنا ملہوترا کہتی ہیں کہ ’اب اچانک سے کافی نوجوان لڑکیاں مجھ سے بھی کم عمر لڑکیاں ساڑھیاں خریدنے لگی ہیں۔ وہ انہیں پارٹیوں اور باہر گھومنے جاتے ہوئے پہنتی ہیں۔ ایسا اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔‘

میں بعض ایسی خواتین کو جانتی ہوں جو ساڑھے پانچ میٹر لمبی ساڑھی کے ان سِلے کپڑے کو باندھ سکتی ہیں۔

کئی بیوٹی سیلون ڈیڑھ سو روپوں کے عوض ساڑھی باندھنے کی خدمات فراہم کرتے ہیں۔

حنا ملہوترا کے اصرار پر میں نے وہاں دکان پر ہی ساڑھی باندھنے کی کوشش کی۔

فیشن ڈیزائنرز شیوان بھاٹیا اور کُکریجا ’بکینی ساڑھی‘ ڈیزائن کی ہے جسے پانی میں یا ساحل سمندر پر بھی پہنا جا سکتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنفیشن ڈیزائنرز شیوان بھاٹیا اور کُکریجا ’بکینی ساڑھی‘ ڈیزائن کی ہے جسے پانی میں یا ساحل سمندر پر بھی پہنا جا سکتا ہے۔

پہلے میں نے کمر کے ساتھ ایک بیلٹ باندھی اس کے بعد ایک معاون نے ساڑھی کی پرتیں بنانے میں میری مدد کی۔ یوں میں نے چند منٹوں میں ایک خوبصورت سبز ساڑھی باندھ لی۔

چونکہ یہ خوبصورت کپڑا میری پسند کے برعکس بہت بھڑکیلا اور روایتی تھا، اس لیے میری والدہ نے مشورہ دیا کہ میں خود اپنی لیے ایک ساڑھی بناؤں۔

میں فیشن ڈیزائنرز شیوان بھاٹیا اور کُکریجا سے ملی جنہوں نے ایک نایاب ساڑھی ڈیزائن کی ہے یعنی ’بکینی ساڑھی‘ جسے پانی میں یا ساحل سمندر پر بھی پہنا جا سکتا ہے۔

تیراکی کے کپڑے بنانے والے ان ڈیزائنر کو اس کا خیال اس لیے آیا کہ کئی خواتین ان سے کہا کرتی تھیں کہ ایسا لباس ہو جو شائستہ بھی ہو اور ساحل پر پہننے کے لیے بھی مناسب ہو۔

چھ سو ڈالر سے شروع ہونے والی قیمتیں یقیناً سستی نہیں ہیں۔ لیکن نریش کُکریجا کہتے ہیں کہ ساڑھی اب بھی انڈین فیشن انڈسٹری میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ یہ ہمہ وقت ارتقا کے لیے تیار ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ ’ساڑھی میں بھارت کے سیاحوں اور چھٹیوں پر جانے والے افراد کی سوچ کے مطابق جدت لائی جا رہی ہے۔‘

میں نے بھی اپنی ساڑھی خود بنانے کا ارادہ ترک نہیں کیا اور ایک کپڑا اور لیس خریدی اور مقامی درزی سے اگلے چند گھنٹوں میں اسے سِلوا لیا۔

لیکن اس ساڑھی کی قیمت صرف 25 ڈالر تھی اور یہ اپنی طرز کی دنیا میں واحد ساڑھی تھی۔