میں نے ساڑھی باندھنی کیسے سیکھی؟

- مصنف, انو آنند
- عہدہ, دِہلی، انڈیا
ساڑھی کے ساتھ میرا پسند و ناپسند کا ملا جلا رشتہ رہا ہے۔
جب میں کسی بھارتی خاتون کو ریشم کی ساڑھی میں اس طرح ملبوس دیکھتی ہوں کہ پلو ان کے ایک کندھے پر سلیقے سے رکھا ہوا ہے اور ساڑھی کی پلیٹیں چلتے وقت ایک دوسرے سے مس ہو رہی ہیں، درمیان میں ہر جنبش پر کھلتی اور چھپتی کمر مجھے ساڑھی پہنے کی تحریک دیتی ہے، خواہ کمر کا سائز کچھ بھی ہو۔
تاہم نو گز کے کپڑے سے جب میرا سامنا ہوتا ہے تو میں اس میں الجھ کر رہ جاتی ہوں اور آلو کے کسی ریشمی بورے کی طرح محسوس کرتی ہوں۔
جب بھی کبھی کسی نے سلیقے سے مجھے ساڑھی پہنائی ہے تو مجھے اپنے آپ میں دھوکے بازی کا احساس ہوا ہے اور مجھے اسے زیبِ تن کرنے کا طریقہ ذرا پیچیدہ نظر آیا ہے۔ کون چاہتا ہے کہ وہ ساڑھی پہن کر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھائے؟
لیکن لندن میں مقیم ہندستانی نژاد ہونے کی وجہ سے میری ساڑھی پہننے کی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے۔ اور اب جب میں واقعتاً بھارت میں رہنے لگی ہوں تو اب تو کوئی عذر نہیں ہونا چاہیے۔ خوش قسمتی سے میرے جیسے ہزاروں ساڑھی پہننے کی خواہش مند خواتین کے لیے ساڑھی سکول ہے۔

سنیچر کی ایک صبح میں جینز اور کالی ٹی شرٹ میں ایک ایسی جگہ پہنچی جہاں بعض بھارتی اور بعض دوسرے ممالک کی خواتین اکٹھی تھیں۔
یہاں استاد ریتا کپور چشتی تھیں، عمر کوئی 60 سال کی ہوگی مگر وہ خاصی زندہ دل تھیں۔ ساڑھی کی مخصوص تاریخ داں کہہ لیں۔ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے پانچ سال کی عمر میں پہلی بار ساڑھی پہنی تھی اور انھیں ساڑھی باندھنے کے 108 مختلف طریقے آتے ہیں۔
چشتی کہتی ہیں: ’ساڑھی ہر عمر کا لباس ہے۔ چاہے آپ اسے چست باندھیں یا ڈھیلے ڈھالے انداز میں پہنیں، اپنی ناف کا مظاہرہ کریں یا اپنے حمل کو چھپائیں ایک ہی ساڑھی ہر عمر میں آپ کو فٹ آئے گی خواہ آپ نوخیز ہوں یا معمر۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے بتایا کہ اسے تقریباتی لباس کے علاوہ سرانگ، پتلون یہاں تک کہ شارٹس کے طور پر بھی پہنا جا سکتا ہے۔
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ساڑھی کے کاروبار میں ہاتھ سے بنی ساڑھیوں کی تیاری کے تعلق سے ہزاروں خواتین کو روزگار فراہم ہو رہا ہے۔

اس کے بعد انھوں نے ہمیں بھارت کے مختلف علاقوں کی ساڑھیوں اور ان کے کپڑے کی خصوصیات کے بارے میں بتایا۔ مثال کے طور پر راجستھان کی بندھنی ساڑھی، آسام کی قدرتی طلائی رنگ کی مونگا ریشمی ساڑھی، گجرات کی پٹولا اور کشمیر کے چیڑ کے درخت کی زردوزی ساڑھی۔
اخیر میں ہمیں ساڑھی پہننے کی مشق کے لیے ساڑھی دی گئي۔ مجھے سنہری کناری والی سبز سوتی ساڑھی ملی۔ ایک سرو قامت برطانوی خاتون کو ارغوانی ریشمی ساڑھی ملی۔ اور ایک بھارتی فنکی نے اپنے لیے شوخ لال رنگ کی ساڑھی پسند کی۔
ہم نے ساڑھی پہننے کے پانچ طریقے سیکھے۔ سب سے آسان تھا ساڑھی کو تین بار لپیٹ لینا اور ہر بار ناف سے قدرے اوپر کی جانب تاکہ تہ بہ تہ سکرٹ کا گمان ہو اور اس کے آخری سرے کو گردن میں سکارف کی طرح حمائل کر لیا جائے۔
ہم نے پتلون کی طرح بھی ساڑھی باندھنی سیکھی کیونکہ بہت سے گاؤں میں کھیت میں کام کرنے والی یا مچھلی پکڑنے والی خواتین اب بھی اسی طرح ساڑھی پہنتی ہیں۔

ہمیں بتایا گيا کہ ساڑھی کے نیچے پہنا جانے والا لباس پیٹی کوٹ یا سایہ یا تہ بند بھارتی تہذیب کا حصہ نہیں ہے بلکہ باہر سے آیا ہے جو کہ شرم و حیا کے جذبے کے تحت انیسویں صدی میں بھارت آیا۔
ہمیں پیٹی کوٹ سے نجات دے دی گئی اور ہمیں اپنے پاجامے پر ہی ساڑھی باندھی سکھائی گئي یا پھر کمر پر ساڑھی کے کونے سے گرہ لگانا سکھایا گيا۔انگریزوں کی بھارت آمد سے قبل خواتین اپنی ساڑھیوں کو استری نہیں کرتی تھیں بلکہ وہ ساڑھیوں کو موڑ کر رکھتی تھیں جس سے ان پر خوبصورت سلوٹیں ابھر آتی تھیں۔
بہر حال 40 سال میں پہلی بار میں پورے طور سےخود ساڑھی باندھی جو بہت اچھی لگ رہی تھی۔ میں یہ سوچ رہی تھی کہ کیا مجھ جیسی خواتین اسے اپنی زندگی میں اپنائیں گی؟







