جان کا خطرہ: ڈاکٹر آفریدی کے وکیل ملک چھوڑ گئے

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی گرفتاری میں امریکہ کی مدد کرنے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کے وکیل سمیع اللہ آفریدی شدت پسندوں کی دھمکیوں کی وجہ سے ملک چھوڑ گئے ہیں۔
ملزم ڈاکٹر شکیل آفریدی کے کیس میں ایک اور معاون وکیل قمر ندیم آفریدی ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ سمیع اللہ آفریدی ایڈووکیٹ کو کچھ عرصے سے شدت پسندوں کی طرف سے ٹیلی فون پر دھمکیاں مل رہی تھیں جس کی وجہ سے انھوں نے چند دنوں سے اپنی نقل و حرکت محدود کر دی تھی۔
انھوں نے کہا کہ سمیع اللہ آفریدی کے خاندان کے کچھ افراد کو بھی شدت پسندوں کی ٹیلی فون کالز موصول ہوئی تھیں جس میں انھیں سختی سے کہا گیا تھا کہ سمیع اللہ آفریدی کیس سے الگ ہو جائیں ورنہ ان کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔
قمر ندیم کا کہنا تھا کہ ان دھمکیوں کے بعد سمیع اللہ آفریدی نے بیرونی ملک جانے کے لیے کوشش تیز کردی تھی۔
انھوں نے کہا کہ سمیع اللہ آفریدی دو دن پہلے دبئی پہنچ چکے ہیں جہاں وہ اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کے ہاں مقیم ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ سمیع اللہ آفریدی کو کس تنظیم کی طرف سے دھمکیاں مل رہی تھیں۔
ڈاکٹر شکیل آفریدی کے کیس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے قمر ندیم نے کہا کہ ملزم کی طرف سے سزا کے خلاف دائر کی گئی ایپل میں عدالت کا فیصلہ محفوظ ہو چکا ہے جو آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔
یاد رہے کہ ملزم ڈاکٹر شکیل آفریدی کی طرف سے وکلاء کا تین رکنی پینل ان کو قانونی معاونت فراہم کر رہا ہے جن میں سمیع اللہ آفریدی کے جانے کے بعد اب دو وکلا رہ گئے ہیں ان میں قمر ندیم اور عبدالطیف آفریدی ایڈووکیٹ شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ خیبر ایجنسی کی انتظامیہ نےگذشتہ سال مئی میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کو شدت پسندوں کی معاونت کرنے اور سیکیورٹی فورسز کے خلاف سازباز کرنے کے الزام میں ایف سی آر کے قانون کے تحت 33 سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔
ملزم پر یہ الزام بھی ہے کہ انھوں نے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکہ کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کو مبینہ طور پر معاونت فراہم کی تھی۔
ڈاکٹر شکیل آفریدی نے فوکس ٹی وی کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انھیں معلوم نہیں تھا کہ سی آئی اے بن لادن کو نشانہ بنائے گی اور نہ ہی انھیں یہ معلوم تھا کہ ان کے کام کی وجہ سے کسی مخصوص شخص کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔







