ڈاکٹر شکیل آفریدی کے خلاف قتل کا مقدمہ

ڈاکٹر شکیل آفریدی پر الزام ہے کہ انہوں نے اسامہ بن لادن کی گرفتاری کے لیے امریکہ کی مدد کی
،تصویر کا کیپشنڈاکٹر شکیل آفریدی پر الزام ہے کہ انہوں نے اسامہ بن لادن کی گرفتاری کے لیے امریکہ کی مدد کی

اسامہ بن لادن کی گرفتاری میں امریکہ کی مدد کرنے والے ڈاکٹر شکل آفریدی کے خلاف قتل کی دفعات کے تحت ایک نیا مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔

یہ مقدمہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ کے دفتر میں درج کروایا گیا ہے۔

<link type="page"><caption> پشاور: ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سزا کالعدم قرار</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/08/130829_shakeel_afridi_sentenced_zz.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ’امریکہ ڈاکٹر آفریدی کے بارے میں فکرمند‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/11/121130_shakil_afridi_nuland_tim.shtml" platform="highweb"/></link>

شکیل آفریدی کے وکیل سمیع اللہ آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ باڑہ کے دفتر میں ایک ماہ قبل ایک خاتون نے شکایت درج کروائی گئی جس کے مطابق سنہ دو ہزار چھ میں اس کے سلیمان نامی بیٹے کا آپریشن کیا گیا جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہوگیا۔

شکایت کے مطابق اُس وقت چونکہ ڈاکٹر شکیل آفریدی اس علاقے میں میڈیکل آفیسر تھے اور انہیں سرجری کا اختیار نہیں تھا لیکن پھر بھی انہوں نے یہ آپریشن کیا اس لیے وہ اس ہلاکت کے ذمہ دار ہیں۔

اس شکایت پر اب اسسٹنٹ پولیٹیکل آفیسر کے دفتر خیبر ایجنسی میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ان کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 اور دفعہ 419 اس کے علاوہ 11 ایف سی آر کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔

مقدمے کی سماعت سنٹرل جیل پشاور میں 20 دسمبر سے ہوگی۔

اس مقدمے کی سماعت اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ ہی میجسٹریٹ کی حیثیت سے جیل میں آ کر کریں گے۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کا تاحال شکیل آفریدی سے کوئی رابطہ نہیں ہوا اس لیے وہ اس مقدمے کے حوالے سے ان کے موقف سے لا علم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس مقدمے کے لیے بھی ان سے رابطہ کیا گیا تو وہ انہیں قانونی مدد فراہم کریں گے۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی کے وکیل سمیع اللہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’سوال یہ ہے کہ اتنے سال پولیٹیکل انتظامیہ، محکمۂ صحت اور حکومت کہاں سوئے ہوئے تھے۔ اگر ایسا کوئی واقعہ ہوا تھا تو تب کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔‘

انہوں نے مزید کہا ’چھ برس بعد کیس نکلوایا گیا ہے تو میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ یہ عمل پولیٹیکل انتظامیہ کے مذموم مقاصد ظاہر کر رہا ہے۔‘

خیال رہے کہ شکیل آفریدی پر یہ الزام عائد تھا کہ انھوں نے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی تلاش یا ان کی نشاندہی کے لیے امریکہ کے لیے ایبٹ آباد میں ویکسین دینے کے لیے ایک فرضی مہم شروع کی تھی۔

انھیں گزشتہ سال اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ خیبر ایجنسی نے شدت پسند تنظیموں کے ساتھ روابط کے الزام میں تینتیس سال قید کی سزا سنائی تھی پشاور کے کمشنر نے اگست کے مہینے میں پولیٹکل ایجنٹ سے دوبارہ مقدمہ سننے کے لیے کہا تھا جس کی سماعت ستائیس نومبر کو ہونی ہے۔