شکیل آفریدی امریکیوں کا ’ہیرو‘

ایبٹ آباد میں امریکی فوج کے آپریشن پر کئی فلمیں بھی بنائی جا چکی ہیں
،تصویر کا کیپشنایبٹ آباد میں امریکی فوج کے آپریشن پر کئی فلمیں بھی بنائی جا چکی ہیں
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

ڈاکٹر شکیل آفریدی کا نام دنیا میں عموماً اور پاکستان میں خصوصاً کسی تعارف کا محتاج نہیں رہا ہے۔ ان کا نام لیتے ہی ذہن میں ایبٹ آباد میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے خلاف دو مئی کی کارروائی کی یاد آ جاتی ہے۔ لیکن آج تک کسی کو نہیں معلوم کہ انہوں نے اصل میں امریکی حکومت کی مدد کس طرح کی؟ اس بابت مفروضے زیادہ اور اصل حقائق کم سامنے آئے ہیں۔

یہ تو سب جانتے ہیں کہ ان کا تعلق محکمہ صحت سے تھا اور وہ پولیو مہم کا حصہ تھے۔ انہوں نے اس پولیو مہم کے ذریعے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کو اسامہ کو تلاش اور اس مکان میں موجودگی کی تصدیق میں مدد دی۔ خیال تھا کہ وہ مکان میں رہنے والوں کا ڈی این اے کا نمونہ حاصل کرنا چاہتے تھے لیکن یہ منصوبہ کامیاب نہ ہوسکا۔ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق ڈاکٹر شکیل آفریدی نمونے حاصل نہیں کرسکے تھے۔

دوسری جانب ماہرین کا اصرار ہے کہ جعلی امیونائزیشن مہم کا نمونوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر لیون پنیٹا کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے دیگر طریقوں سے مدد کی۔ لیکن اس کی تفصیل کبھی نہیں بتائی۔ مسٹر پنیٹا کا کہنا تھا کہ اس شخص نے ایسی معلومات دیں جو ایبٹ آباد کارروائی کے لیے کافی مددگار ثابت ہوئیں۔

نواز شریف کے حالیہ امریکی دورے کے دوران بھی امریکی انتظامیہ نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے بارے میں بات کی
،تصویر کا کیپشننواز شریف کے حالیہ امریکی دورے کے دوران بھی امریکی انتظامیہ نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے بارے میں بات کی

امریکی فلم ’سیل ٹیم سکس‘ میں ظاہر کیا گیا کہ ڈاکٹر شکیل کو معلوم تھا کہ وہ سی آئی اے کی اسامہ کو تلاش کرنے میں مدد کر رہے تھے، لیکن کئی امریکی اہلکار اور خود ڈاکٹر شکیل کہہ چکے ہیں کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ اسامہ ان کا ہدف تھا۔ سی آئی اے ان پر بھی اعتماد نہیں رکھتی تھی لہٰذا انہیں اسامہ کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔ امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز کو جیل سے موبائل فون پر ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں معلوم تھا کہ یہ کارروائی کس کے خلاف تھی۔

اگرچہ امریکی کانگریس کے نمائندگان ڈاکٹر شکیل آفریدی کو امریکیوں کا ’ہیرو‘ قرار دے چکے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ان کی معلومات کی بنیاد پر سی آئی اے ان تک پہنچی تو پھر انہیں اڑھائی کروڑ ڈالر کا انعام کیوں نہیں دیا گیا؟

امریکیوں کا اخباری اطلاعات کے مطابق کہنا تھا کہ یہ رقم کسی کو بھی نہیں دی جائے گی کیونکہ اسامہ کو الیکٹرانک نہ کہ انسانی جاسوسی کی مدد سے ڈھونڈا گیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری جے کارنی نے مئی 2011 میں بھی یہی کہا تھا کہ انہیں توقع نہیں کہ یہ رقم کسی کو ادا کی جائے گی۔

ایک سوال یہ بھی ہے کہ اگر پاکستانی حکام کے پاس ڈاکٹر کے خلاف کوئی ثبوت تھے تو انہیں غداری کے الزام کے تحت عدالتی کارروائی کا سامنا کیوں نہیں کرنے دیا گیا؟ ان پر حکومت نے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں ایک شدت پسند تنظیم کی مدد کے الزام میں مقدمہ چلایا اور 33 سال قید کی سزا سنائی۔ اب اس مقدمے کی سماعت حکومت دوبارہ کر رہی ہے کیونکہ اس کے خیال میں سابق عدالت کے جج نے اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے سزا سنائی تھی۔

جہاں ڈاکٹر شکیل کو امریکی ہیرو بنا رہے تھے وہیں ان کے کردار کے بارے میں بھی میڈیا میں طرح طرح کی خبریں چلتی رہیں۔ کہیں ان کے پیشے سے متعلق تو کہیں ان کے ذاتی کردار کے بارے میں خبریں کافی عرصے تک سامنے آتی رہیں۔ ان میں کتنی سچائی ہے یا وہ بھی کسی کی ایما پر چلائی گئیں، کچھ کہنا مشکل ہے۔ لیکن ایک بات واضح ہے۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی کا پولیو مہم سے تعلق اس اپاہج کر دینے والے مرض کے فروغ کا سبب بنا ہے۔