’شکیل آفریدی کی جان کو خطرہ ہے‘

القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کو ڈھونڈنے میں مدد کرنے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کے وکیل چاہتے ہیں کہ سیکورٹی کے خدشات کی وجہ سے ان کے موکل کے مقدمے کی سماعت جیل کے اندر کی جائے ۔
ایڈوکیٹ سمیع اللہ آفریدی ایڈووکیٹ کے مطابق انہوں نے جیل میں سماعت کے لیے درخواست کا متن تیار کر لیا ہے اور پیر کے روز ایک درخواست پولیٹکل ایجنٹ خیبر ایجنسی کے دفتر میں جمع کرائی جائے گی۔
وکیل کا موقف ہے کہ شکیل آفریدی کو پولیٹکل ایجنٹ کے دفتر لے جانے اور لانے سے ان کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اس لیے ان کے مقدمے کی سماعت سنٹرل جیل پشاور میں ہی کی جائے ۔
سمیع اللہ آفریدی ایڈووکیٹ کے مطابق مقدمے کی سماعت آئندہ چند ہفتوں کے اندر شروع ہو سکتی ہے اور اس کے لیے سرکاری سطح پر انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ مقدمے کی سماعت کے لیے ضروری ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی بھی اس موقع پر موجود ہوں اور انھیں عدالت میں لانے اور لے جانے میں مشکلات کا سامنا ہوگا کیونکہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے ۔
سمیع اللہ آفریدی نے کہا کہ انھیں یہ اطلاع بھی موصول ہوئی ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت نے بھی وفاقی حکومت سے کہا ہے کہ وہ شکیل آفریدی کو اسلام باد میں کہیں قید رکھیں کیونکہ یہاں خیبر پختونخواہ میں سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات لاحق ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے سابق دور حکومت میں بھی وفاقی حکومت سے شکیل آفریدی کی قید کے حوالے درخواست کی تھی کہ انھیں مرکز یا پنجاب میں کسی جیل میں منتقل کر دیا جائے ۔
ادھر ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ پشاور میں سنٹرل جیل کی سیکیورٹی ایک مرتبہ پھر بڑھا دی گئی ہے جہاں شکیل آفریدی قید ہیں۔ یاد رہے بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان جیل پر حملے کے بعد خیبر پختونخوا میں پشاور سمیت دیگر جیلوں کی سیکیورٹی بڑھا دی گئی تھی۔
ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سزا کمشنر پشاور ڈویژن نے اپیل عدالت کے طور پر اسسٹسنٹ پولیٹکل ایجنٹ کی جانب سے تینتیس سال کی سزا کو کالعدم قرار دے دیا تھا اور پولیٹکل ایجنٹ سے کہا تھ-ا کہ وہ دوبارہ سے اس مقدمے کی سماعت کریں۔ ابھی تک اس مقدمے کی تاریخ طے نہیں ہوئی ہے ۔







