’وفاق کے قیدی ہیں تو وفاقی جیل میں رکھیں‘

پاکستان کی صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکی اداروں کی مدد کرنے کے الزام میں گرفتار ڈاکٹر شکیل آفریدی کو پشاور سے باہر کسی اور جیل منتقل کرنے کے لیے وفاقی حکومت کو باقاعدہ درخواست دے دی ہے۔
جیل خانہ جات کے امور کے لیے وزیراعلی خیبر پختونخوا کے مشیر ملک قاسم خان خٹک نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی وفاقی حکومت کے قیدی ہیں لہذا انہیں یہاں سے فوری طورپر وفاقی حکومت کے زیر انتظام چلنے والے کسی جیل میں بھیجا جائے۔
<link type="page"><caption> جاسوس یا پیادہ ؟</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/05/120525_dr_afridi_pawn_tf.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> شکیل آفریدی کی سزا پر چند سوالات </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/05/120524_afridi_fcr_tf.shtml" platform="highweb"/></link>
نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی ایک ہائی پروفائل ملزم ہیں جن کی سکیورٹی پر صوبائی حکومت گزشتہ کئی ماہ سے بھاری رقم خرچ کر رہی ہے جبکہ جیل کے اندر انہیں تحفظ فراہم کرنا بھی ایک بڑی ذمہ داری ہے۔
ان کے مطابق ڈاکٹر شکیل آفریدی پر جیل کے اندر حملہ بھی ہوسکتا ہے اس لیے بہتر یہی ہوگا کہ انہیں یہاں سے کہیں اور بھیجا جائے تاکہ صوبائی حکومت ان کی ذمہ داری سے آزاد ہو جائے۔
ملک قاسم کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت پہلے بھی شکیل آفریدی کو پشاور سے کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کی درخواست کر چکی ہے لیکن بظاہر لگتا ہے ابھی تک اس درخواست پر غور نہیں کیا گیا ہے۔
دریں اثناء ڈاکٹر شکیل آفریدی کے وکیل سمیع اللہ آفریدی ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ وہ گزشتہ کئی ماہ سے اپنے موکل سے جیل میں ملاقات کی درخواست دے رہے ہیں لیکن حکام کی طرف سے انہیں اجازت نہیں دی جا رہی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ وہ آٹھ ماہ پہلے اپنے موکل سے جیل میں ملے تھے لیکن اس کے بعد سے نہ تو ان کو اجازت دی گئی اور نہ بھائیوں اور بیوی بچوں کو ڈاکٹر شکیل سے ملنے دیا گیا ہے۔
ادھر حالیہ دنوں میں مقامی میڈیا میں یہ خبریں بھی گردش کرتی رہی ہیں کہ امریکہ نے پاکستان کو تجویز دی ہے کہ مجرموں کے تبادلے کا دو طرفہ معاہدہ کر لیا جائے جس کے تحت امریکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو پاکستان کے حوالے اور پاکستان ڈاکٹر شکیل آفریدی کو امریکہ کے حوالے کر دے۔
اس کے علاوہ تین دن پہلے پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان اعزاز چوہدری نے بھی کہا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان دو علاقائی تصفیے موجود ہیں جن کو اگر اکٹھا کیا جائے تو ڈاکٹر شکیل آفریدی اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے تبادلے پر بات جیت کی جاسکتی ہے۔
خیال رہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی پچھلے کئی ماہ سے سنٹرل جیل پشاور میں پابند سلاسل ہیں۔
ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایبٹ آباد میں مقیم القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کا ڈی این اے حاصل کرنے کے لیے ہیپائیٹس سے بچاؤ کے ٹیکے لگانے کی ایک جعلی مہم چلائی تھی۔
ڈاکٹر شکیل آفریدی کو تحصیل باڑہ کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ کی عدالت کی جانب سے تیس سال قید کی سزا سُنائی گئی تھی اور انہوں نے اس سزا کے خلاف کمشنر پشاور کی عدالت میں اپیل دائر کر رکھی ہے جس پر فیصلہ انتیس اگست کو سنایا جائے گا۔







