پاکستانی حکام نے غفلت برتی: ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ

کمیشن کی رپورٹ کے مطابق اُسامہ بن لادن نو سال تک پاکستان میں رہے
،تصویر کا کیپشنکمیشن کی رپورٹ کے مطابق اُسامہ بن لادن نو سال تک پاکستان میں رہے

دو مئی دو ہزار گیارہ کو پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں القاعدہ کے رہنما اُسامہ بن لادن کی ہلاکت سے متعلق حقائق جاننے کے لیے حکومتِ پاکستان کی جانب سے قائم کیے گئے کمیشن کی رپورٹ میں ملک کی عسکری اور سویلین قیادت پر شدید تنقید کی گئی ہے۔

یہ رپورٹ ابھی تک منظرِ عام پر نہیں آئی تاہم بی بی سی اور دیگر ذرائع ابلاغ نے یہ رپورٹ دیکھی ہے۔

میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آنے والی اس رپورٹ پر بحث تو جاری ہے لیکن سرکاری طور پر ابھی تک اس رپورٹ کے مصدقہ ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

رپورٹ میں اعلیٰ سطح کے پاکستانی حکام پر فرائض سے غفلت برتنے اور نااہلی کا الزام لگایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اُسامہ بن لادن نو سال تک پاکستان میں چھپے رہے۔

امریکی حکام کا موقف رہا ہے کہ ایبٹ آباد میں کیے گئے اس آپریشن کا مقصد اُسامہ بن لادن کو گرفتار کرنا یا پھر گرفتار نہ ہونے کی صورت میں ہلاک کرنا تھا اور اگر وہ ہتھیار ڈال دیتے تو انہیں گرفتار کر لیا جاتا۔

رپورٹ نے اس موقف کے برعکس نتائج ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس آپریشن کا واحد مقصد اُسامہ بن لادن کو ہلاک کرنا تھا اور اُن کی گرفتاری کا کوئی عزم نہیں تھا۔ کمیشن نے اسے ایک مجرمانہ قتل قرار دیا۔

یاد رہے کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی سربراہی میں قائم کیے گئے تین رکنی کمیشن نے چھ ماہ قبل نے یہ رپورٹ اُس وقت کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو دی تھی۔ اس رپورٹ کو منظرِ عام پر لایا جانا تھا تاہم یہ رپورٹ پوشیدہ رکھی گئی۔

کمیشن کے سربراہ بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ اس رپورٹ کو حکومت کے حوالے کرنے کے بعد یہ اختیار حکومت کے پاس ہے کہ وہ اس رپورٹ کو عام کرتی ہے یا نہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اُسامہ بن لادن نو سال تک پاکستان میں رہے جن میں سے چھ انھوں نے ایبٹ آباد میں گزارے۔

کمیشن نے اسامہ کی ہلاکت کو ایک مجرمانہ قتل قرار دیا
،تصویر کا کیپشنکمیشن نے اسامہ کی ہلاکت کو ایک مجرمانہ قتل قرار دیا

کمیشن نے اس بات پر حیرانی کا بھی اظہار کیا ہے کہ سنہ دو ہزار گیارہ میں ہی ایک اور شدت پسند رہنماء کی ایبٹ آباد میں ہی گرفتاری کے بعد اس بات پر غور کیوں نہیں کیا گیا کہ شہر میں کون لوگ مقیم ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس آپریشن کے دوران پاکستان کی اعلیٰ عسکری قیادت نے پاکستانی فضائیہ کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ امریکی ہیلی کاپٹروں کو مار گرائیں تاہم یہ احکامات جب تک دیے گئے، تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔

کمیشن کی اس رپورٹ کے مطابق پاکستانی انٹیلیجنس کے ایک سابق سربراہ نے کہا ہے کہ اس بات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا کہ اُسامہ بن لادن کے بعد القاعدہ کے سربراہ بننے والے ایمن الظواہری بھی پاکستان میں تھے۔

کمیشن نے اس رپورٹ پر ایک سال سے زائد عرصہ تک کام کیا اور رپورٹ کی تیاری میں سیاست دانوں، سکیورٹی فورسز، خفیہ اداروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ایک سو سے زائد افراد کے بیانات لیے گئے ہیں۔

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ایبٹ آباد میں امریکی فورسز کی اس کارروائی کی اطلاع آخر میں فوج کے سپریم کمانڈر صدر زرداری کو دی۔

اس رپورٹ میں اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ اُسامہ بن لادن کی دوسری بیوی امریکی سی آئی اے کے پے رول پر تھی اور اُنہی کی مدد سے امریکہ نے اُسامہ بن لادن کو تلاش کیا۔

اس مبینہ رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا تھا کہ سنہ دو ہزار تین میں راولپنڈی سے گرفتار ہونے والے خالد شیخ کے دوران تفتیش بھی اُسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔

رپورٹ کے مطابق اُسامہ بن لادن کی دوسری بیوی کے بیان کو بھی ریکارڈ پر لایا گیا ہے جس میں اُنہوں نے کہا تھا کہ ایبٹ آباد منتقل ہونے سے پہلے سوات میں خالد شیخ کی اُسامہ بن لادن سے ملاقات ہوئی تھی۔ اس رپورٹ میں خفیہ ادارے بلخصوص ملٹری انٹیلیجنس کی ناکامی کا بھی ذکر کیا گیا ہے ۔

اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ آرمی چیف کی سکیورٹی کی ذمہ داری بھی ملٹری انٹیلیجنس کی ہوتی ہے اور اس عرصے کے دوران آرمی چیف نے ایبٹ آباد کے کنٹونمنٹ کے علاقے کے متعدد بار دورے کیے لیکن ایم آئی نے وہاں پر اپنا نیٹ ورک نہیں بڑھایا حالانکہ اُسامہ بن لادن کی رہاش گاہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کے قریب ہی واقع ہے۔ اس واقعہ میں آئی ایس آئی کے کردار پر بھی اُنگلیاں اُٹھائی گئی ہیں۔

اس رپورٹ میں فوج نے مقامی پولیس کو ہدایت کی تھی کہ وہ جائے وقوعہ سے دور رہیں۔ سیکریٹری داخلہ قمر زمان چوہدری کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اُنہوں نے خفیہ اداروں کے درمیان تعاون کے فقدان کا ذکر کیا ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ یہ ایم آئی ، آئی ایس آئی اور صوبائی خفیہ ادارے اُنہیں اطلاع نہیں دیتے بلکہ وزارتِ داخلہ کو میڈیا کے ذریعے ہی اطلاعات ملتی ہیں۔