’سی آئی اے کی معاونت کرنے سے فرق نہیں پڑتا‘

پاکستان میں اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکہ کی مدد کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے وکیل سمیع اللہ آفریدی نے کہا ہے کہ امریکی میڈیا میں ان کے موکل کے حوالے سے شائع شدہ رپورٹیں اگر سچ بھی ثابت ہوتی ہیں تو تب بھی اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا اور نہ ہی اس بنیاد پر شکیل آفریدی کو سزا ہوسکتی ہے۔
جمعے کو بی بی سی سے گفتگو کرتے سمیع اللہ آفریدی نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ گذشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں ایک دوسرے کے اتحادی رہے ہیں۔
پشاور میں ہمارے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگر شکیل آفریدی نے واقعی سی آئی اے کی معاونت کی ہے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا اور نہ ہی قانوناً اس بنیاد پر ان کو کوئی سزا نہیں ہوسکتی کیونکہ دونوں ممالک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک دوسرے کے اتحادی ہیں۔
یاد رہے کہ امریکی ذرائعِ ابلاغ میں ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کے بعض حصوں کو بنیاد بناکر دعویٰ کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی پانچ سال سے امریکی سی آئی اے کے ساتھ رابطے میں تھے اور ان کےلیے جاسوس کے طورپر کام کرتے رہے ہیں۔
رپورٹوں میں مزید کیا گیا ہے کہ فاٹا میں امن و امان کی خراب صورتِ حال کے باعث ڈاکٹر شکیل آفریدی نے امریکہ میں سیاسی پناہ کی درخواست دی تھی جو مسترد کردی گئی تھی۔
سمیع اللہ آفریدی نے مزید بتایا کہ امریکی میڈیا میں ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے جو پاکستان میں ابھی تک منظر عام پر نہیں آسکی ہے اس لیے ان اطلاعات پر زیادہ اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔
انھوں نے کہا کہ آٹھ مہینے پہلے ان کی شکیل آفریدی سے جیل میں ملاقات ہوئی تھی اور تب سے وہ جیل حکام کو درخواستیں دے رہے ہیں لیکن ابھی تک ان کو ملنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ ان کے مطابق ان کے موکل کے رشتہ داروں کو بھی ملزم سے ملنے کی اجازت نہیں دی جاری رہی۔
خیال رہے کہ خیبر ایجنسی کی انتظامیہ نے گذشتہ سال مئی میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کو شدت پسندوں کی معاونت کرنے اور سکیورٹی فورسز کے خلاف سازباز کرنے کے الزام میں ایف سی آر کے قانون کے تحت 33 سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ملزم نے اس سزا کے خلاف کمشنر پشاور کی عدالت میں ایک درخواست دائر کررکھی ہے جس میں وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ اگلے ماہ 13 جون کو محفوظ کرلیا گیا ہے۔







